بھارت: سپریم کورٹ نے ایک ساتھ "تین طلاق" پر پابندی عائد کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

بھارت میں سپریم کورٹ نے منگل کے روز اپنے ایک فیصلے میں مسلمانوں میں بیک وقت "تین طلاقوں" کے عمل کو غیر آئینی شمار کرتے ہوئے اس پر پابندی عائد کر دی ہے۔

واضح رہے کہ تین طلاقوں سے متاثرہ چند خواتین نے بھارتی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ مسلمان مرد کی جانب سے ایک ہی وقت میں بیوی کو تین طلاقیں دینے کے طریقہ کار پر نظرِ ثانی کی جائے۔

سپریم کورٹ کے پانچ ججوں پر مشتمل بینچ نے مقدمے کی سماعت کی۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ پانچوں ججوں کا تعلق پانچ مختلف مذاہب سے تھا جن میں ہندو مت ، مسیحیت ، اسلام ، سکھ اور زردشت مذہب شامل ہے۔

ججوں نے اپنے موقف میں کہا کہ مرد کو اس بات کی اجازت دینا کہ وہ اپنی من مانی کرتے ہوئے بنا سوچے سمجھے یک دم شادی کا بندھن ختم کر دے.. ایک انتہائی افسوس ناک امر ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "جس چیز کو مذہب ناجائز شمار کرتا ہے قانون اس کو جائز قرار نہیں دے سکتا"۔

بھارت میں جہاں کئی مذاہب کے پیروکار بستے ہیں ، کئی مذہبی اداروں اور مراکز کو شادی ، طلاق اور میراث سے متعلق امور کو دیکھنے کی اجازت ہے۔ اس کے نتیجے میں بھارت کے مسلمانوں میں تین طلاقوں کا رواج عام ہو گیا۔

تاہم وزیراعظم نریندرا مودی کی حکومت نے ملک میں تین طلاقوں پر پابندی کے مطالبے کی سپورٹ کی اور اس کو آئین کے منافی اور عورت کے خلاف تعصب پر مبنی قرار دیا۔

واضح رہے کہ بھارت میں مسلم پرسنل لاء بورڈ نے جس میں کئی اسلامی تنظیمیں اور جماعتیں شامل ہیں تین طلاقوں سے روکے جانے کے معاملے کی مخالفت کی تھی۔

بعض مسلم علماء کا اس بات پر اصرار رہا ہے کہ قرآن کریم میں تین طلاقوں کا ذکر نہیں ہے۔ بعض ماہرین کے نزدیک قرآن اس امر پر زور دیتا ہے کہ پہلی مرتبہ طلاق کا لفظ بولے جانے کے بعد شوہر اور بیوی کو مصالحت اور رجوع کے واسطے تین ماہ تک کا دورانیہ ملنا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں