’قطری بحران کا حل ریاض سربراہ کانفرنس کے مطابق ہونا چاہیے‘
امریکی صدر کا شاہ سلمان کو فون، ایرانی مداخلت پر بات چیت
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اورسعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے درمیان ٹیلیفون پر رابطہ ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ نے قطر اور دوسرے عرب ملکوں کے درمیان جاری سفارتی کشیدگی کو سیاسی طریقے سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قطری بحران ریاض سربراہ کانفرنس کی روشنی میں حل ہونا چاہیے جس میں مل کر دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے عزم کا اظہار کیا گیا تھا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی صدر اور شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے دمریان ہونے والی بات چیت میں خطے میں ایران کی بڑھتی مداخلت اور اس کے نتیجے میں علاقائی سلامتی کو لاحق خطرات، دہشت گردی کو شکست سے دوچار کرنے اور اس کے مالی سوتوں کو خشک کرنے پر بات چیت کی گئی۔
خیال رہے کہ پانچ جون کو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطر پر دہشت گردوں کی مالی معاونت کا الزام عایدکرتے ہوئے دوحہ کا سفارتی بائیکاٹ کردیا تھا۔ بائیکاٹ کرنے والے ملکوں کا دعویٰ ہے کہ قطر دہشت گردی کی پشت پناہی کےساتھ ساتھ خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں کررہا ہے۔
خلیجی ریاستوں اور قطر کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کو حل کرنے کے لیے متعدد محاذوں پر سفارتی کوششیں کی گئیں مگر دوحہ کی ہٹ دھرمی کے باعث ابھی تک یہ بحران جوں کا توں موجود ہے اور اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔
-
صدر ٹرمپ کی سعودی عرب کے نئے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو مبارک باد
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے نئے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ...
بين الاقوامى -
دہشت گردی سے متعلق ٹرمپ کا قطر سے مطالبہ.. سعودی اماراتی خیر مقدم
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اُس بیان کا خیر ...
مشرق وسطی -
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے سعودی عرب کا شاہ عبدالعزیز میڈل
سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے مہمان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ...
بين الاقوامى