.

بھارتی نژاد نکّی ہیلی نے صدر ٹرمپ سے ’’تعلقات‘‘ کی افواہوں کی مذمت کردی

کبھی صدر سے اپنے مستقبل کے بارے میں بات کی اور نہ تنہائی میں ملاقات کی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکّی ہیلی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ماورائے شادی کسی قسم کے ناجائز تعلق سے متعلق افواہوں کو سخت سے مسترد کردیا ہے اور انھیں بہت ہی جارحانہ اور بے ہودہ الزام قراردیا ہے۔

انھوں نے میگزین پولیٹیکو سے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ سے کسی قسم کے رومانس کا سے سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ بالکل غلط بات اور بے ہودہ الزام ہے۔ صدر ٹرمپ کے بھارتی نژاد نکّی ہیلی سے ناجائز مراسم کا انکشاف ’’فائر اور فیوری‘‘ ( آتش اور غیظ) کے مصنف مائیکل وولف نے گذشتہ ہفتے ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا تھا۔

انھوں نے اپنی کتاب کے بھی بالکل آخر میں لکھا ہے کہ ’’ نکّی ہیلی نے ایفانکا ٹرمپ سے پہلے دوستی استوار کی تھی اور پھر وہ ان کے ذریعے صدر ٹرمپ کے درباریوں اور قریبی مصاحبین میں شامل ہونے میں کامیاب ہوگئی تھیں اور وہ مسٹر ٹرمپ کی توجہ کا مرکز ٹھہری تھیں‘‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی صدر اپنے سرکاری طیارے ائیرفورس ون میں اپنا بہت سا ’’پرائیویٹ وقت ‘‘ نکّی ہیلی کے ساتھ گزارتے رہے ہیں اور وہ انھیں مستقبل میں اپنی سیاسی جانشین کے طور پر ذمے داریوں کے لیے بھی تیار کر رہے تھے۔مسٹر وولف نے ایک ’’ سینیر ٹرمپر‘‘ کا حوالہ دیا تھا جس کے بہ قول ٹرمپ ہیلی کی اس لیے اتالیقی کررہے ہیں کیونکہ یہ عورت ان کے مقابلے میں بہت زیادہ اسمارٹ ہے۔

لیکن نکّی ہیلی نے مائیکل وولف کے اس بیانیے کی تردید کی ہے اور ان کے بیان کردہ واقعے کی وضاحت کی ہے کہ ’’ میں صرف ایک ہی مرتبہ ائیرفورس ون میں سوار ہوئی تھی اور اس وقت کمرے میں بہت سے اور لوگ بھی موجود تھے‘‘۔

’’ان صاحب کا کہنا ہے کہ اوول آفس میں صدر کے ساتھ اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں گفتگو کرتی رہی ہوں ۔میں یہ واضح کردوں کہ میں نے کبھی صدر سے اپنے مستقبل کے بارے میں بات کی ہے اور نہ میں نے کبھی ان سے تنہائی میں ملاقات کی ہے‘‘۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف صدر سے جنسی تعلقات کی افواہیں مردوں کا ایک چھوٹا گروپ پھیلا رہا ہے اور یہ مضبوط عزم کی حامل خواتین سے پریشان ہے۔بیشتر مرد تو خواتین کا احترام کرتے ہیں لیکن مردوں کا یہ چھوٹا گروپ ایسا ہے کہ اگر آپ اپنا کام اچھے طریقے سے کرنے کی کوشش کریں اور اس کے بارے میں کھل کر اظہار خیال بھی کریں تو وہ اس سے نالاں ہوجاتا ہے اور اس کو تکلیف ہوتی ہے کیونکہ ان کی یہ سوچ ہے کہ اس طرح انھیں گرایا جارہا ہے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے اور صدر کے درمیان قریباً تمام پالیسی معاملات پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے اور انھوں نے جو بھی اقدامات کیے ہیں ، مجھے ان سے اتفاق ہوتا ہے۔