.

حوثی ملیشیا اس وقت بدترین صورت حال سے دوچار ہے: منحرف کمانڈر

صنعاء میں بیشتر فوجی کمانڈر حوثیوں سے گلوخلاصی کے لیے مناسب وقت کے منتظر ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی باغیوں سے منحرف ہونے والے بریگیڈئیر جنرل جمیل المعماری نے انکشاف کیا ہے کہ حوثی ملیشیا اس وقت بدترین صورت حال سے دوچار ہے اور دارالحکومت صنعاء میں بہت سے افسر اب ان سے چھٹکارا پانے کے لیے مناسب وقت کے انتظار میں ہیں۔

جمیل المعماری حوثیوں کا ساتھ چھوڑ کر یمنی حکومت کے عارضی دارالحکومت عدن پہنچ گئے ہیں اور انھوں نے العربیہ نیوز چینل کے ساتھ ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ حوثیوں نے اس وقت صنعاء کا بدترین محاصرہ کررکھا ہے اور انھوں نے کمانڈروں اور افسروں کی نقل وحرکت پر پابندیاں عاید کردی ہیں کیو نکہ وہ ہرکسی کو اب شک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ حوثیوں کے اس وعدے پر صنعاء ہی میں رُک گئے تھے کہ یمنی عوام کے مسائل و مصائب کا خاتمہ کیا جائے گا اور قومی شراکت داری قائم کی جائے گی لیکن انھوں نے ان میں سے ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا ہے اور صنعاء میں صورت حال بدترین ہوچکی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ حوثیوں کے وعدے ایفاء نہ کرنے پر اب ان کا ساتھ چھوڑ آئے ہیں۔

ان کے بہ قول حوثیوں نے ریاستی اداروں کو نظرانداز کیا ہے، عوام کو دیوار سے لگا دیا ہے،ان سے غیر منصفانہ سلوک کیا ہے اور نوجوانوں کو جنگ میں جھونک دیا ہے۔انھوں نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ حوثی اب اپنے فوجی کمانڈروں پر بھی کوئی بھروسا نہیں کرتے ہیں اور انھیں صرف اپنے میڈیا فرنٹ کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔

جمیل المعماری نے حوثیوں کی یمنی فوج کے خلاف لڑائی کے تجربے کا یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ وہ فوجی کمانڈروں کو میدان جنگ میں جھونکنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں تاکہ وہ وہاں جا کر لڑیں اور ہلاک ہوجائیں۔