.

قطر نے دہشت گرد گروپوں کو 15 کروڑ ڈالرز ادا کیے تھے: واشنگٹن پوسٹ کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر نے عراق میں یرغمال اپنے پچیس شہریوں کی بازیابی کے لیے مختلف ممالک سے مدد لینے کا تو اعتراف کیا تھا لیکن وہ ان کی بازیابی کے لیے دہشت گرد تنظیموں کو رقوم دینے کا مسلسل انکار کرتا رہا ہے لیکن اب واشنگٹن پوسٹ نے یہ انکشاف کیا ہے کہ قطر نے باقی لوگوں کے علاوہ دہشت گرد گروپوں کو پندرہ کروڑ ڈالرز ادا کیے تھے۔

چند ہفتے قبل امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز میں ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع ہوئی تھی اور اس میں عراق میں اغوا کیے گئے قطریوں کی بازیابی کی ایک دلچسپ کہانی بیان کی گئی تھی۔نومبر 2015ء میں قطر کے شاہی خاندان کے افراد سمیت شکاریوں کا ایک گروپ عراق کے جنوبی صوبے مثنیٰ میں شکار کے لیے گیا تھا۔انھیں وہاں ایک مسلح گروپ نے اغوا کر لیا تھا اور کئی ماہ کی کوششوں اور تاوان کی ادائی کے بعد ان کی رہائی ممکن ہوسکی تھی۔

صحافی رابرٹ ایف ورتھ کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ان قطریوں کی بازیابی کے لیے عراق میں مختلف فریقوں کو تاوان کے طور پر 36 کروڑ ڈالرز کی رقم ادا کرنے کے لیے بھیجی گئی تھی ۔یہ رقم بغداد کے ہوائی اڈے پر پکڑی گئی تھی ۔

ان قطری شکاریوں کو عراق میں کتائب حزب اللہ نامی ایک گروپ نے اغوا کیا تھا ۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق قطر نے ا ن کی بازیابی کے لیے ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی، عراقی حکومت کے سینیر وزراء اور لبنانی حزب اللہ اور بہت سے دہشت گرد گروپوں سے رابطہ کیا تھا اور ان کی خدمات حاصل کی تھیں۔

امریکا میں متعیّن قطری سفیر شیخ مشعل بن حمد آل ثانی نے گذشتہ ماہ نیویارک ٹائمز کو ایک خط لکھا تھا۔ اس میں انھوں نے رپورٹ کے مندرجات کی تردید کی تھی اور دوٹوک انداز میں یہ لکھا تھا کہ ’’قطر نے اپنے شہریوں کی رہائی کے لیے کوئی تاوان ادا نہیں کیا تھا‘‘۔انھوں نے مزید لکھا تھا کہ ’’ یہ آئیڈیا کہ قطر ایسی سرگرمیوں کو انجام دے گا جس سے دہشت گردی کی حمایت ہوتی ہے ، بالکل غلط ہے‘‘۔

مگر واشنگٹن پوسٹ نے یہ لکھا ہے کہ اس خط میں اس امر سے انکار نہیں کیا گیا کہ قطر نے بحران کے خاتمے کے لیے رقم ادا نہیں کی تھی۔ البتہ اس سے بظاہر یہ لگتا ہے کہ رقوم وصو ل پانے والے حکومتی عہدے دار تھے ۔اس خط میں عراق کے ساتھ قطر کے معاملے کو مبہم انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ ’’ اس کا مقصد دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا تھا اور یرغمالیوں کی محفوظ رہائی کو یقینی بنانا تھا‘‘۔

واشنگٹن پوسٹ کو حاصل ہونے والی گفتگو کی تفصیل اور ٹیکسٹ پیغامات سے ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔اخبار کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق سینیر قطری سفارت کاروں نے ایرانی اور قطری عہدے داروں ، نیم فوجی لیڈروں کے ساتھ پچاس لاکھ سے پانچ کروڑ ڈالرز تک رقوم کی ادائی سے متعلق کاغذات پر دست خط کیے تھے۔ان کے علاوہ ڈھائی کروڑ ڈالرز کی رقم کتائب حزب اللہ کے سربراہ اور پانچ کروڑ ڈالرز کی رقم جنرل قاسم سلیمانی کے لیے مختص کی گئی تھی۔

اخبار نے ہیک کیے گئے پیغامات حاصل کیے ہیں اور ان کی بنا پر پہلی مرتبہ یہ انکشاف کیا ہے کہ ان رقوم کے علاوہ پندرہ کروڑ ڈالرز کی اضافی رقم اس تمام معاملے میں ثالثی کرنے والے ایسے افراد اور گروپوں کو بھی ادا کی گئی تھی جنھیں امریکی حکام ایک عرصے سے دہشت گردی کے مالی معاونین قرار دے رہے ہیں ۔

ان میں پاسداران انقلاب ایران اور کتائب حزب اللہ ،عراق میں امریکی فوجیوں پر حملوں میں ملوث ایک ملیشیا اور لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ بھی شامل ہے ۔ان کے علاوہ شام میں القاعدہ سے وابستہ النصرہ محاذ سمیت حزب اختلاف کے دو مسلح گروہ بھی قطری رقوم وصول پانے والوں میں شامل تھے ۔

اخبار نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ان قطری یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے اس وقت کل رقم کی مالیت ایک ارب ڈالرز تک جاپہنچی تھی۔یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے قطر کی جانب سے اعلیٰ مذاکرات کار اور عراق میں قطری سفیر زاید بن سعید الخیارین نے تب ایک پیغام میں لکھا تھا :’’ شامی ، لبنان کی حزب اللہ ، کتائب حزب اللہ اور عراق ۔۔۔۔۔۔۔یہ سب رقوم مانگ رہے تھے کیونکہ ان کے لیے رقم اینٹھنے کا یہ ایک سنہری موقع تھا۔یہ تمام چور تھے‘‘۔

سفیر خیارین نے اپریل 2017ء میں ایک ٹیکسٹ پیغام میں یہ بھی لکھا تھا کہ ’’ جب ہمیں ہمارے لوگ مل جائیں گے تو آپ کو آپ کی رقم مل جائے گی‘‘۔انھوں نے یہ بات کتائب حزب اللہ کے ایک لیڈر سے فون پر گفتگو میں لکھی تھی۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یہ ٹیکسٹ پیغامات اور فون پر گفتگو ایک غیر ملک نے ریکارڈ کی تھی اور اسی نے اخبار کو یہ فراہم کی تھی۔اس میں سیل فون پر گفتگو کے علاوہ صوتی میل پیغامات بھی شامل تھے۔