.

افغان پولیس کا طالبان کے قبضے سے ایرانی اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی رجیم تحریک طالبان کے جنگجوؤں کو اسلحہ اور جنگی سازو سامان فراہم کر رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق افغان پولیس حکام نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ جنوب مغربی صوبے فراہ میں طالبان کے خلاف کی گئی تازہ فوجی کارروائی کے دوران طالبان کے قبضے سے ایرانی اسلحہ اور جنگی سازو سامان بھی برآمد کیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے فارسی سیکشن کے نامہ نگار کے مطابق فراہ صوبے کے پولیس چیف فضل احمد شیرزاد نے کہا کہ ایران طالبان تحریک کے جنگجوؤں کو اسلحہ اور فنڈز مہیا کررہا ہے تاکہ وہ فراہ ریاست اور ملک کے دوسرے علاقوں میں افراتفری پھیلا سکیں۔

شیرزاد کاکہنا تھاکہ فراہ صوبے میں طالبان کے خلاف کارروائی کےدوران جنگجو اسلحہ چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ طالبان کے قبضے سے ملنے والے ہتھیار ایرانی ساختہ ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران طالبان کی مسلح مدد کررہا ہے۔

پولیس چیف کا کہنا تھا کہ ایران سرحدی صوبے فراہ میں انارکی پھیلانے کے لیے طالبان اور دوسرے جنگجو گروپوں کی مدد کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ فراہ صوبہ افغانستان کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ اس کی سرحدیں شمال میں صوبہ ہرات، نیمروز، جنوب میں ہلمند اور مغرب میں ایران سے ملتی ہیں۔ ان صوبوں کی اکثریت پشتون آبادی پر مشتمل ہے۔ فراہ صوبے میں طالبان کی بڑھتی سرگرمیوں کے باعث یہاں اکثر پولیس اور جنگجوؤں کے درمیان لڑائی کی اطلاعات آتی ہیں۔

گذشدتہ منگل کو طالبان نے فراہ صوبے پر ایک بڑا حملہ کر کے کئی علاقوں پر قبضہ کرلیا تھا تاہم بعد ازاں پولیس اور دیگر فورسز نے بھرپور کارروائی کر کے طالبان کو بھگا دیا۔ آپریشن میں کم سے کم 300 جنگجو ہلاک اور سیکڑوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب افغانستان کی طرف سے ایران پر طالبان جنگجوؤں کو اسلحہ فراہم کرنے کا الزام سامنے آیا ہے۔ فراہ صوبے میں حکام نے 28 دسمبر 2016ء کو ایک بیان میں کہا تھا کہ طالبان کے ساتھ وہاں ایرانی پاسداران انقلاب کے اہلکار بھی لڑائی میں شامل ہیں۔

فرانسیسی ریڈیو نے ایک مقامی خاتون عہدیدار جمیلہ امینی کا ایک بیان نقل کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ فراہ صوبے میں لڑائی کے دوران 25 طالبان جنگجو مارے گئے۔ تحقیق کرنے پر پتا چلا کہ وہ ایرانی پاسداران انقلاب کے اہلکار تھے۔