افغان صوبہ ہلمند میں راکٹ حملے میں 50طالبان کمانڈرمارے گئے: امریکی فوج کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں توپ خانے سے راکٹ حملے میں طالبان کے پچاس سے زیادہ سینیر کمانڈر مارے گئے ہیں جبکہ ملک کے مختلف علاقوں میں طالبان اور افغان سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔

امریکی فوج نے بدھ کو ہلمند میں طالبان کی ان ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ صوبے کے ضلع موسیٰ قلعہ میں 24 مئی کو طالبان کمانڈروں کے ایک اجلاس پر راکٹ برسائے گئے تھے۔اس اجلاس میں ہمسایہ صوبہ فراہ سمیت مختلف صوبوں سے تعلق رکھنے والے طالبان کمانڈر شریک تھے۔

افغانستان میں امریکی فورسز کے ترجمان کرنل مارٹن او ڈونیل نے کہا ہے کہ ’’ ہمارے خیال میں اس اجلاس میں آیندہ کی منصوبہ بندی کی جارہی تھی۔ان پر آرٹلری کے ایک راکٹ نظام کے ذریعے حملہ کیا گیا ہے‘‘۔ان کے بہ قول یہ ایک بڑ اہم حملہ ہے اور اس سے مزاحمت کاروں کو نمایاں دھچکا لگا ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ اس ماہ اس دس روزہ کارروائی کے دوران میں طالبان کے کئی اور بھی اعلیٰ اور نچلی سطح کے کمانڈر مارے گئے ہیں ۔

افغان طالبان نے اس رپورٹ کو پروپیگنڈا قرار دے کر مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ موسیٰ قلعہ میں دو عام مکانوں کو حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نتیجے میں پانچ شہری ہلاک اور تین زخمی ہوگئے تھے۔

طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمد ی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’یہ ایک شہری اقامتی علاقہ تھا اور اس کا طالبان سے کوئی تعلق نہیں تھا‘‘۔

ادھر افغانستان کے شمالی صوبہ تخار میں طالبان نے ضلع دشت قلعہ کے مرکز ، گورنر کے کمپاؤنڈ اور پولیس ہیڈ کوارٹرز پر قبضہ کر لیا ہے۔صوبے کے ایک پولیس ترجمان خلیل اسیر کا کہنا ہے کہ اس ضلع میں طالبان جنگجو ؤں اور افغان سکیورٹی فورسز کے درمیان لڑائی جاری ہے۔

صوبہ لوگر میں طالبان نے صوبائی دارالحکومت پلِ عالم میں ایک پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا ہے ۔اس حملے میں تین پولیس اہلکار ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے ہیں۔صوبائی گورنر کے ترجمان شاہ پور احمد زئی نے کہا ہے کہ طالبان نے آج علی الصباح پولیس اسٹیشن پر دھاوا بول دیا تھا،اس کے بعد ان کی پولیس اہلکاروں کے ساتھ تین گھنٹے تک جھڑپ ہوتی رہی تھی اور اس میں یہ تینوں حملہ آور مارے گئے ہیں۔

جنوبی شہر قندھار میں ایک بم دھماکے میں تین شہری ہلاک اور تیرہ زخمی ہوگئے ہیں۔بظاہر اس بم حملے میں ایک میکنیک کی ورکشاپ کو نشانہ بنایا گیا تھا جہاں افغان فوج کی گاڑیوں کی مرمت کا کام ہوتا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں