.

افغانستان کے علماء کا "پہلی مرتبہ" خودکش حملوں کی حرمت کا فتوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں اعلی ترین مذہبی اتھارٹی "علماء کونسل" نے ایک فتوی جاری کیا ہے جس میں خود کش حملوں کو "شرعا حرام" قرار دیا گیا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے 2 ہزار کے قریب علماء کرام ، مذہبی شخصیات اور مذہب و قانون کے ماہرین پر مشتمل کونسل نے پیر کے روز کابل میں ایک اجلاس میں یہ فتوی جاری کیا۔

کونسل نے افغان حکومتی فورسز ، طالبان تحریک اور دیگر مسلح عناصر سے مطالبہ کیا کہ وہ لڑائی روک دیں اور فوری طور پر فائر بندی پر متفق ہوں۔ اس کے علاوہ فریقین کے بیچ امن مذاکرات پر بھی زور دیا گیا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ علماء کونسل کی جانب سے اس طرح کا فتوی جاری کیا گیا ہے۔

دوسری جانب کابل کے مغربی حصّے میں اجلاس کے بعد علماء کے کوچ کرنے کے دوران اجلاس کے کیمپ کے نزدیک ایک خود کش حملہ آور نے دھماکا کر دیا۔ کابل پولیس کے مطابق علماء کرام کی جانب سے اس نوعیت کے حملوں کی حرمت سے متعلق فتوی جاری ہونے کے کچھ ہی دیر بعد ہونے والے دھماکے نے کم از کم 8 افراد کی جان لے لی۔

مقامی وقت کے مطابق دھماکا صبح 11:30 پر ہوا۔

حالیہ چند ماہ کے دوران کابل میں ہونے والے سلسلہ وار دھماکوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔ اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ رمضان کے دوران حملوں میں کوئی کمی واقع ہوئی ہو۔