.

شامی بحران کی بدترین صورت حال ابھی تک سامنے نہیں آئی : اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے اعلان کے مطابق رواں برس 2018ء کے ابتدائی چار ماہ میں شام میں 9.2 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے۔ یہ سات برس قبل تنازع شروع ہونے کے بعد سے ایک ریکارڈ ہے۔

یہ بات شام میں اقوام متحدہ کے رابطہ کار پینوس مومٹزیس نے جنیوا میں ایک پریس کانفرنس میں بتائی۔ انہوں نے مزید کہا کہ شام میں داخلی سطح پر بھرپور نقل مکانی دیکھی جا رہی ہے۔ پینوس نے شامی اپوزیشن کے زیر کنٹرول صوبے اِدلب پر حالیہ فضائی حملوں کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ "جنگ کے 7 برس گزر جانے کے باوجود شاید ابھی تک ہم نے شامی بحران کی بدترین صورت نہیں دیکھی ہے"۔

اقوام متحدہ کے رابطہ کار کے مطابق عسکری چڑھائی اِدلب کی صورت حال کو مزید "پیچیدہ اور وحشیانہ" بنا سکتی ہے۔ پینوس نے بتایا کہ اِدلب میں تقریبا لاکھ افراد کے بے گھر ہونے کے امکان کے سبب انسانی امور سے متعلق رابطہ کاری کا دفتر ہائی الرٹ ہو چکا ہے۔