.

الحدیدہ کی آزادی کے بعد حوثی مذاکرات کی میز پر لوٹنے پر مجبور ہوجائیں گے: اماراتی وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش نے کہا ہے کہ یمن کے ساحلی شہر الحدیدہ کو آزاد کرانے کے لیے کوششوں کے نتیجے میں حوثی ملیشیا مذاکرات کی میز پر لوٹنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

انور قرقاش نے اتوار کو ابو ظبی میں تعینات غیرملکی سفیروں کو یمن میں الحدیدہ شہر اور اس کی بندر گاہ کو حوثی ملیشیا کے قبضے سے چھڑانے کے لیے عرب اتحاد کی جنگی کارروائیوں کے بارے میں بریفنگ دی ہے۔

انھوں نے بعد میں ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ’’ اس آپریشن اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن مارٹن گریفتھس کی امن کوششوں کی معاونت کے لیے منصوبہ بندی کی گئی ہے تا کہ وہ حوثیوں کو الحدیدہ کی بندر گاہ سے غیر مشروط طور پر انخلا پر آمادہ کرسکیں ‘‘۔

وہ لکھتے ہیں :’’ ہم جنگ کے ایک اہم موڑ پر پہنچ چکے ہیں۔جب تک حوثی الحدیدہ پر قبضہ برقرار رکھتے ہیں تو وہ سیاسی عمل میں رخنہ ڈالنے کا سلسلہ بھی جاری رکھیں گے۔ہمیں پختہ یقین ہے کہ الحدیدہ کی آزادی کے بعد حوثی دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور ہوجائیں گے‘‘۔

انور قرقاش نے کہا کہ الحدیدہ کے عوام ایران کے حمایت یافتہ مذہبی انتہا پسندوں کی حکمرانی نہیں چاہتے ہیں۔ وہ آزادی چاہتے ہیں۔الحدیدہ کے عوام اور عرب اتحاد اس شہر کو آزاد کرانا چاہتے ہیں کیونکہ اس طرح ملک میں جاری لڑائی بھی مختصر ہوجائے گی‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ عرب اتحاد نے یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں غیر معمولی احتیاط کا مظاہرہ کیا ہے۔ہم نے اپنے دو مقاصد کے حصول پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے ۔ ایک تو یہ کہ ہم انسانی امداد کی بہم رسانی کا تحفظ کریں گے اور دوسرا شہریوں کو بھی تحفظ مہیا کریں گے‘‘۔