.

ڈونلڈ ٹرمپ غیرملکی دورے میں روس کے’’ ضرررساں کردار‘‘ پر تبادلہ خیال کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے آیندہ غیر ملکی دورے میں معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے سربراہ جلاس اور صدر ولادی میر پوتین سے ملاقات میں روس کی ’’ضرررساں سرگرمی‘‘ کے بارے میں تبادلہ خیال کریں گے۔

صدر ٹرمپ آیندہ منگل کو یورپ کے دورے پر روانہ ہوں گے۔ وہ برسلز میں نیٹو کے سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے، پھر برطانیہ جائیں گے اور 16 جولائی کو ہیلسنکی میں روسی صدر ولادی میر پوتین سے ون آن ون ملاقات کریں گے۔

روس میں متعیّن امریکی سفیر جان ہنٹس مین نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’صدر دونوں ملکوں کے مفاد میں روس کے ساتھ بہتر شراکت داری میں یقین رکھتے ہیں لیکن گیند حقیقی معنوں میں روس کی کورٹ میں ہے۔صدر روس کو اس کی ضرررساں سرگرمی پر قابل احتساب گرداننے کا سلسلہ جاری رکھیں گے‘‘۔

خود صدر ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ صدر پوتین سے ملاقات میں امریکا میں منعقدہ گذشتہ صدارتی انتخابات میں روس کی مداخلت ، شام اور یوکرین کی صورت حال پر تبادلہ خیال کریں گے۔

امریکی سینیٹ کی ایک انٹیلی جنس کمیٹی نے منگل کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں امریکا کی تین انٹیلی جنس ایجنسیوں کے تحقیقاتی نتائج کی حمایت کی ہے۔انھوں نے کہا تھا کہ روس نے 2016ء میں ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارتی انتخابات میں فتح دلانے میں مدد کی تھی۔

لیکن خود امریکی صدر متعدد مرتبہ روس کی جانب سے اپنی انتخابی مہم میں کسی مدد سے انکار کرچکے ہیں اور روسی صدر پوتین بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ روس نے امریکا کے صدارتی انتخابات میں کوئی مداخلت نہیں کی تھی۔

امریکا کے یورپی اتحادی بھی روس کی انتخابات میں مداخلت پر مشوش ہیں ۔ تاہم نیٹو کے سربراہ اجلاس میں امریکی صدر اپنے اتحادیوں پر مشترکہ دفاع کے لیے زیادہ رقوم مہیا کرنے پر زور دیں گے۔

نیٹو میں امریکا کی مستقل نمائندہ کے بیلے ہچنسن کا کہنا ہے کہ روس اور اس کی ضرررساں سرگرمیاں تنظیم کے سربراہ اجلاس کے ایجنڈے کا بنیادی موضوع ہوں گی۔