.

شمالی کوریا کا جوہری پروگرام سے دستبرداری کے لیے عزم متزلزل ، مائیک پومپیو پُرامید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شمالی کوریا نے کہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام سے دستبرداری کے لیے عزم متزلزل ہوسکتا ہے جبکہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے پیانگ یانگ میں شمالی کوریا کے حکام سے اپنی بات چیت میں تمام اہم ایشوز پر ہونے والی پیش رفت کو سراہا ہے اور خوش اُمیدی کا اظہار کیا ہے۔

مائیک پومپیو نے پورا ڈیڑھ ایک دن پیانگ یانگ میں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے خاتمے کے لیے نظام الاوقات سمیت مختلف امور پر تفصیلی بات چیت کی ہے۔شمالی کوریا کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ان مذاکرات کا نتیجہ انتہائی پریشان کن رہا ہے۔

کورین سنٹرل نیوز ایجنسی (کے سی این اے) کے مطابق ترجمان نے کہا کہ امریکی وفد نے یک طرفہ طور پر جزیرہ نما کوریا کو مکمل ، قابلِ تصدیق اور ناقابل ِواپسی جوہری ہتھیاروں سے پاک بنانے پر اصرار جاری رکھا ہے جبکہ ہمیں یہ توقع تھی کہ امریکی ایک تعمیری تجویز کے ساتھ آئیں گے ۔

ترجمان نے کہا :’’ ہم یہ سوچ رہے تھے کہ ہمیں بھی جوہری پروگرام ختم کرنے کے بدلے میں کچھ ملے گا لیکن دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح کی بات چیت کے بعد باہمی اعتماد خطرناک صورت حال سے دوچار ہے اور جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری کے لیے ہمارا پختہ عزم اب متزلزل ہوسکتا ہے ‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کا تیز ترین طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ مرحلہ وار حکمتِ عملی پر عمل درآمد کیا جائے اور طرفین بیک وقت اقدامات کریں ‘‘۔امریکی محکمہ خارجہ نے فوری طور پر اس کے ردعمل میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

مائیک پومپیو نے پیانگ یانگ سے روانہ ہوتے وقت یہ کہا تھا کہ انھوں نے مذاکرات میں جوہری پروگرام کے خاتمے کے لیے نظام الاوقات سمیت کم وبیش تمام مرکزی امور میں پیش رفت کی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ طرفین نے 12 جولائی کو 1950-53ء کی کوریا جنگ میں ہلاک شدہ امریکیوں کی باقیات کی واپسی کے لیے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے اور میزائل تجربات کی جگہ کو تباہ کرنے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا کے روشن مستقبل کے لیے پُر عزم ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان ہیتھر نوئرٹ نے بتایا ہے کہ مائیک پومپیو نے شمالی کوریا کے لیڈر کِم جونگ اُن سے ملاقات نہیں کی تھی۔البتہ انھوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ان کے نام ایک خط شمالی کوریا کے اعلیٰ مذاکرات کار اور خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ کِم یونگ چول کے حوالے کیا تھا ۔شمالی کوریا کے لیڈر کی جانب سے صدر ٹرمپ کے نام ایک جوابی خط بھی مائیک پومپیو کے حوالے کیا گیا۔