.

صدر ایردوآن کا ترکی میں امریکی وزیر انصاف اور داخلہ کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم

امریکا کے پادری اینڈریو برونسن کے حوالے سے اقدامات ایک تزویراتی شراکت دار کے لیے نامناسب اور ترکی کی توہین قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے حکام کو امریکا کے وزیر داخلہ اور وزیرانصاف کے اپنے ملک میں موجود اثاثے منجمد کرنے کا حکم دیا ہے۔

انھوں نے یہ حکم ایک عیسائی پادری کو زیر حراست رکھنے کے معاملے پر اپنے دو وزراء کے خلاف امریکا کی عاید کردہ پابندیوں کے جواب میں دیا ہے۔ صدر ایردوآن نے ہفتے کے روز ایک نشری تقریر میں کہا کہ’’ امریکا کے پادری اینڈریو برونسن کے حوالے سے اقدامات ایک تزویراتی شراکت دار کے لیے مناسب نہیں تھے اور یہ ایک طرح سے ترکی کی توہین تھے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ میں آج اپنے دوستوں سے ترکی میں امریکا کے وزیر انصاف اور وزیر داخلہ کے اگر کوئی اثاثے ہیں تو انھیں منجمد کرنے کا کہو ں گا‘‘۔

امریکا نے گذشتہ بدھ کو ترکی کے وزیر انصاف عبدالحمید گل اور وزیر داخلہ سلیمان سوئلو کے خلاف پروٹیسٹنٹ فرقے سے تعلق رکھنے والے ایک پادری اینڈریو کریگ برونسن کو زیر حراست رکھنے کے الزام میں پابندیاں عاید کردی تھیں۔وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری سارہ سینڈرس کا کہنا تھا کہ ان دونوں ترک شخصیات نے اس پادری کی 2016ء میں گرفتاری اور پھر زیر حراست رکھنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

ترکی کی وزارت خارجہ نے امریکی انتظامیہ سے اس ’’غلط‘‘ فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا اور امریکی اقدام کو ایک ’’ جارحانہ مؤقف‘‘ قرار دیا تھا۔

ترک وزیر خارجہ مولود شاوش اوغلو نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’’امریکا کی ہمارے دو وزراء پر پابندیوں کے نفاذ کی کوشش کسی جواب کے بغیر نہیں رہے گی‘‘۔ انھوں نے لکھا تھا:’’ کوئی ترکی کو سبق نہیں پڑھا سکتا۔ ہم کسی کی طرف سے بھی دھمکیوں کو قبول نہیں کریں گے۔قانون کی حکمرانی سب کے لیے ہے اور اس سے کسی کو استثنا حاصل نہیں ‘‘۔