.

بھارت کے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی آنجہانی ہوگئے !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی جمعرات کو چل بسے ہیں ۔ان کی عمر ترانوے سال تھی۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایک ٹویٹ میں ان کی موت کی تصدیق کی ہے۔

آنجہانی واجپائی گذشتہ دو ماہ سے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں واقع آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمز) میں زیر علاج تھے۔انھیں گردے میں انفیکشن اور سینے میں تکلیف کے بعد اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ انھیں 2009ء میں دل کا دورہ بھی پڑا تھا۔

اٹل بہاری واجپائی ایک قوم پرست ہندو سیاست دان تھے اور وہ تین مرتبہ بھارت کے وزیراعظم منتخب ہوئے تھے۔وہ ایک اسکول استاد کے بیٹے تھے۔انھوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز صحافت سے کیا تھا اور پھر سیاست میں آگئے تھے۔وہ شاعر بھی تھے۔

انھوں نے بھارت کی موجودہ حکمراں ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) کے احیاء اور اس کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔وہ بھارت کے ایک اہم ماہر ، مدبر اور سلجھے ہوئے سیاست دان سمجھے جاتے تھے۔

انھوں نے 1998ء میں وزیراعظم کی حیثیت سے جوہری تجربات کا حکم دیا تھا۔اس کے جواب میں پاکستان نے بھی ایٹمی دھماکے کیے تھے جس سے خطے میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہونے کے امکانات پید ا ہوگئے تھے لیکن بعد میں انھوں نے پاکستان کے ساتھ قیام امن کے لیے مذاکرات کا سلسلہ بھی شروع کردیا تھا اور فروری 1999ء میں دوستی بس پر بیٹھ کر لاہور آئے تھے۔ انھوں نے پاکستان کے اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے مذاکرات کیے تھے۔

آنجہانی واجپائی کو بھارت کا ایک صاف شفاف سیاست دان قرار دیا جاتا ہے اور ان پر کبھی بدعنوانی کا الزام عاید نہیں کیا گیا تھا ۔ البتہ ان پر اور ان کی جماعت پر بھارت کی سب سے بڑی مذہبی اقلیت مسلمانوں کو دیوار سے لگانے اور ان کے مذہبی و شہری حقوق پامال کرنے کے الزامات عاید کیے جاتے ہیں۔ان کی جماعت کے دورِ اقتدار میں ہندو قوم پرستی کو عروج حاصل ہوا ہے اور بھارت میں آباد اقلیتیں خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگی ہیں۔

وزیراعظم نریندر مودی نے 2014ء میں اٹل بہاری واجپائی کو ان کی سیاسی وقومی خدمات کے اعتراف میں بھارت کے سب سے اعلیٰ سول اعزاز ’’ بھارت رتنا‘‘ سے نوازا تھا۔مسٹر مودی نے ان کی وفات پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ایک دور کا خاتمہ ہوگیا ہے۔

بھارتی صدر رام ناتھ کویند نے تعزیتی ٹویٹ میں انھیں ایک ’’ حقیقی بھارتی مدبر‘‘ قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ ’’ ان کی قیادت ، بالغ نظری ، دور اندیشی اور بصیرت نے انھیں ان کے قد کاٹھ کے حامل قائدین کی صف میں شامل کردیا تھا۔اٹل جی ایسے شریف النفس عظیم قائد کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا‘‘۔

اٹل بہاری  واجپائی 20 فروری 1999ء  کو  پاکستان  کے سابق  وزیراعظم میاں نواز شریف  کے ساتھ واہگہ بارڈر پر ۔ فائل تصویر
اٹل بہاری واجپائی 20 فروری 1999ء کو پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے ساتھ واہگہ بارڈر پر ۔ فائل تصویر