.

زیمبیا کی فٹ بال ایسوسی ایشن کے سابق صدرقطر کے میزبانی اسکینڈل میں کیسے ملوّث ہوئے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

زیمبیا کی فٹ بال ایسوسی ایشن کے سابق صدر کالوشا بوالیا بھی قطر کو 2022ء میں ہونے والے عالمی کپ کی میزبانی دلانے کے اسکینڈل میں ملوث نکلے ہیں۔انھوں نے بیش قیمت تحائف کے بدلے میں قطر کی میزبانی کی حمایت کی تھی۔

اس پر فٹ بال کی عالمی فیڈریشن ایسوسی ایشن( فیفا) نے اس ماہ کے اوائل میں ان پر دو سال کی پابندی عاید کردی ہے۔انھوں نے مبینہ طور پر قطر سے 80 ہزار ڈالرز رشوت کے طور پر وصول کیے تھے۔ کالوشا بوالیا زیمبیا کے مشہور عالمی فٹ بالر رہے ہیں مگر قطر سے معاملے نے ان کی عزت خاک میں ملا دی ہے۔

’’زیمبیا واچ ڈاگ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق قطر کے محمد بن ہمام ( ایشیائی فٹ بال ایسوسی ایشن کے سابق سربراہ) اور کالوشا بوالیا کے درمیان پہلی مرتبہ تب علیک سلیک ہوئی تھی جب ثانی الذکر جنوبی افریقا کی جانب سے فٹ بال عالمی کپ کی میزبانی کے حصول کے لیے سفیر مقرر کیا گیا تھا۔پھر ان کے درمیان راہ ورسم بڑھتی چلی گئی اور وہ جب چاہتے تھے،ایک دوسرے کو کال کرسکتے تھے‘‘۔

اس نے رپورٹ میں مزید لکھا ہے کہ’’ فیفا کے حلقوں میں ایک سابق کھلاڑی ہونے کے ناتے سے بوالیا کا رتبہ بڑھتا چلا گیا۔انھیں باوقار فٹ بال کمیٹی کا رکن مقرر کردیا گیا اور وہ متعدد ٹورنامنٹوں میں ٹیکنیکل اسٹڈی گروپ کے لیے کام کرتے رہے تھے‘‘۔

وہ خود بھی فٹ بال کی عالمی تنظیم میں مزید ترقی اور وقار کے متمنی تھے اور قطری محمد بن ہمام بھی اسی طرح کے عزائم کے حامل رہے تھے۔ چنانچہ دونوں نے مل کر فیفا کے سابق صدر سیپ بلاٹر کو نکال باہر کرنے کی کوشش کی تھی اور محمد بن ہمام ان کی جگہ لینے کی کوشش کی تھی۔

زیمبیا کا جریدہ لکھتا ہے:’’ قطر کی 2022ء میں ہونے والے عالمی کپ کی میزبانی کی کوشش میں کامیابی نے بن ہمام کے ستارے کو بھی با م عروج پر پہنچا دیا ۔وہ فیفا کی صدارت کے لیے پُرامید تھے لیکن ان سے اس مہم کے آخری دنوں میں ایک بڑی سنگین غلطی سرزد ہوگئی ۔انھوں نے ٹرینی ڈاڈ اور ٹوباگو میں شمالی ، وسطی امریکا اور کیری بیّن فٹ بال ایسوسی ایشن کی رکن تنظیموں کے صدور کو 40 ہزار ڈالرز فی کس نقدی کی صورت میں دینے کی پیش کش کردی‘‘۔

فیفا کی ضابطہ اخلاق کمیٹی نے 2012ء میں ووٹوں کی خریداری کے الزامات کی تحقیقات اپریل 2018ء میں مکمل کی تھی۔اس میں بوالیا کو قصور وار قرار دیا گیا تھا اور چار ماہ کے بعد اگست میں ان پر فٹ بال سے متعلق عالمی اور ملکی سطح پر تمام سرگرمیوں میں دو سال تک حصہ لینے پر پابندی عاید کردی گئی ہے۔اس کے علاوہ ان پر تیس ہزار سوئس فرانک جرمانہ بھی عاید کیا گیا ہے۔جریدے نے لکھا ہے کہ لالچ اور ہوس نے ان کے تمام زندگی کے اچھے کاموں اور کارناموں کو گہنا دیا اور ان کی شخصیت کو داغ دار کر دیا ہے۔