ایران نے رواں سال 5 کم سِن افراد سمیت 207 قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتارا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران میں انسانی حقوق کی تنظیم نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا ہے کہ حکام نے رواں برس کے آغاز کے بعد سے اب تک 207 افراد کو موت کی سزا دی ہے جن میں 5 کم سِن شامل ہیں۔

تنظیم کی جانب جاری بیان میں سول سائٹی کی تمام تنظیموں اور ایرانی شہریوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سزائے موت کے خاتمے کے لیے جاری تحریک میں شامل ہو جائیں۔

تنظیم نے عالمی برادری پر بھی زور دیا ہے کہ وہ ایرانی حکام سے 18 برس سے کم عمر افراد کے خلاف سزائے موت کو ختم کرنے کا مطالبہ کرے۔

تنظیم کے مطابق اقوام متحدہ ، یورپی یونین اور بین الاقوامی تنظیموں پر لازم ہے کہ وہ ان معاملات کو ایرانی حکومت کے ساتھ بات چیت کے دوران پیش کریں۔

انسانی حقوق کی ایرانی تنظیم کے ترجمان محمود امیری مقدم کا کہنا ہے کہ "سزائے موت ایک غیر انسانی سزا ہے جس کو سرکش عناصر معاشرے میں دہشت پیدا کرنے اور اپنی حکومت جاری رکھنے کے واسطے استعمال کرتے ہیں"۔

تنظیم کے مطابق ایران میں عدلیہ کے عہدے داران اندرونی اور بین الاقوامی سطح پر شدید مخالفت کے باوجود قصور وار ٹھہرائے گئے بچوں کے خلاف سزائے موت پر عمل درامد جاری رکھے ہوئے ہیں۔

تنظیم نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ رواں برس کے آغاز سے اب تک ایران میں 207 قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا جب کہ ایرانی میڈیا میں ان میں سے صرف 75 کا اعلان کیا گیا۔

جن افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ان میں 20 افراد پر عائد الزامات کا تعلق لُوٹ مار سے، 8 کا تعلق منشیات سے، 155 کا قتل کی واردات سے، 21 کا عصمت دری سے اور 3 افراد کا تعلق سیاسی الزامات سے تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں