عرب اور مسلم رہ نماؤں کا خاشقجی کیس پر شاہ سلمان کے فرامین کی حمایت کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

عرب اور مسلم رہ نماؤں نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کی موت کے اعلان کے بعد خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے جاری کردہ فرامین کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے خاشقجی کیس کے حوالے سے خادم الحرمین الشریفین کے احکامات اور فیصلو ں کو سراہا ہے۔یو اے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کے مطابق وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید آل نہیان نے ایک بیان میں خاشقجی قتل کیس سے متعلق سچائی جاننے کے لیے شاہ سلمان کی کوششوں اور دلچسپی کو سراہا ہے اور منصفانہ اور قانونی احتساب پر زور دیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’’مملکت سعودی عرب کی نمایندگی اس کی قیادت کرتی ہے اور یہ انصاف اور شفافیت پر مبنی اداروں کی ریاست ہے۔خاشقجی کیس کی تحقیقات کے بعد شاہی فرامین اور اقدامات قانون اور انصاف کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے قانونی اقدار اور اصولوں کی تائید کرتے ہیں ۔

بحرین نے ایک سرکاری بیان میں سعودی شاہ کے فرامین اور فیصلوں کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ سعودی عرب بدستور انصاف ، اصولوں اور اخلاقی قدروں کی ریاست رہے گا۔

مصر نے بھی شاہ سلمان کے فیصلہ کن اور دلیرانہ اقدامات کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ یہ قانون کے اصولوں اور موثر انصاف کے اطلاق کے حوالے سے ان کی حکمتِ عملی کے عین مطابق ہیں ۔

مصری وزارت خارجہ نے ایک بیان میں مقتول جمال خاشقجی کے خاندان سے بھی تعزیت کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کو یقین ہے ، تحقیقات سے سچ سامنے آئے گا۔

فلسطین نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے انصاف ، شفافیت ، حقائق اور قانون کی حکمرانی کے لیے اقدامات اور فیصلوں کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ مملکت بدستور انصاف اقدار اور اصولوں کی ریاست رہے گی۔

جیبوتی اور یمن نے سعودی فرماں روا کے جمال خاشقجی کے استنبول میں قتل کے حوالے سے حقائق کو بے نقاب کرنے میں اظہار ِدلچسپی کو سراہا ہے۔

یمن کا کہنا تھا کہ شاہ سلمان کے فیصلوں سے سعودی عرب نے خود کو دنیا کے سامنے شفافیت اور حوصلے کے اصولوں کا پاسدار ثابت کیا ہے۔

رابطہ عالم اسلامی نے دنیا بھر کے مسلم عوام کی جانب سے سعودی عرب کی قیادت اور عوام کے ساتھ مکمل یک جہتی کا اظہار کیا ہے اور سعودی عرب کے استحکام اور سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کی مذمت کی ہے۔

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے سعودی عرب کی شفافیت کو سراہا ہے اور انصاف پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

سعودی پراسیکیوٹر نے جمعہ کو ابتدائی تحقیقات کے بعد جمال خاشقجی کی موت کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ ترکی کے شہر استنبول میں دو ہفتے قبل ہاتھا پائی اور تشدد کے نتیجے میں ان کی موت ہوئی تھی۔اس واقعے میں اٹھارہ سعودی شہریوں کے ملوث ہونے کا شُبہ ہے۔ یہ تمام افراد اس وقت زیر حراست ہیں ۔انھیں جمال خاشقجی کی موت اور اس کو چھپانے کا ذمے دار قرار دیا جارہا ہے۔

اس اعلان کے بعد شاہی دیوان کے مشیر سعود القحطانی اور انٹیلی جنس کے نائب سربراہ احمد العسیری کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے زیر نگرانی جنرل انٹیلی جنس ایجنسی کی کمان کی تنظیم نو کا حکم دیا ہے اور ایک شاہی فرمان کے ذریعے انٹیلی جنس ایجنسی میں کام کرنے والے متعدد افسروں کو برطرف کردیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی نے ایک سرکاری ذریعے کے حوالے سے کہا ہے کہ سعودی عرب خاشقجی قتل کیس کے سلسلے میں سچائی کو منظرعام پر لانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کررہا ہے اور اس واقعے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں