.

ٹرمپ انتظامیہ ابھی خاشقجی کیس سے متعلق حقائق اکٹھا کرنے کے مرحلے میں ہے: کوشنر

سعودی عرب امریکا کا اہم اتحادی اور تزویراتی شراکت دار ہے: سی این این کے زیراہتمام کانفرنس میں گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرڈ کوشنر نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ابھی تک سعودی صحافی جمال خاشقجی کی استنبول میں قونصل خانے میں موت سے متعلق حقائق اکٹھا کرنےکے مرحلے میں ہے اور اس واقعے کے تمام حقائق کو جاننے کے لیے کام کررہی ہے۔

انھوں نے یہ بات امریکا کے کیبل نیوز نیٹ ورک (سی این این) کے زیر اہتمام ایک کانفرنس میں کہی ہے۔ ان سے جمال خاشقجی کے کیس کے حوالے سے سعودی عرب کے موقف پر تبصرہ کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔انھوں نے کہا کہ ہم مختلف ذرائع سے تمام ممکنہ حقائق اکٹھا کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔اس کے بعد ہم اس بات کا تعیّن کرسکیں گے کہ کون سے حقائق قابلِ اعتبار ہیں۔

انھوں نے کہا کہ’’ ٹرمپ انتظامیہ خاشقجی کی موت سے متعلق سعودی عرب کی وضاحت کو کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے۔ میرے خیال میں صدر اس بات پر توجہ مرکوز کررہے ہیں کہ امریکا کے لیے کیا اچھا ہے۔ہمارے تزویراتی مفادات کیا ہیں اور دوسرے ممالک کے ساتھ ہمارے کیا مشترکہ مفادات ہیں ؟‘‘

وائٹ ہاؤس کے سینیر مشیر کا کہنا تھا کہ ’’امریکا اور سعودی عرب کے اتحاد کو برقرار رکھنا ہمارے لیے اہمیت کا حامل ہے۔ہمیں اپنے اتحادیوں سے مل کر کام کرنا چاہیے اور سعودی عرب ان میں سے ایک ہے ۔میرے خیال میں ایران کی جارحیت کو پیچھے دھکیلنے میں وہ ایک اہم اتحادی ہے‘‘۔

جیرڈ کوشنر کے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے قریبی تعلقات بتائے جاتے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ ’’اس وقت پوری دنیا دیکھ رہی ہے اور شہزادہ محمد کے لیے میرا یہ مشورہ ہے کہ یہ ایک بہت ہی سنجیدہ صورت حال ہے اور انھیں شفافیت کو یقینی بنانا چاہیے‘‘۔

انھوں نے اپنی گفتگو میں سعودی عرب میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی گذشتہ ایک سال کے دوران میں متعارف کردہ دور رس اصلاحات کو سراہا ہے اور انھیں تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان سے امریکا کے مفادات کو آگے بڑھانے اور دہشت گردی کے لیے مہیا ہونے والی رقوم کا سراغ لگانے میں مدد ملی ہے۔

سعودی عرب نے گذشتہ جمعہ کو ابتدائی تحقیقات کے بعد جمال خاشقجی کی موت کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں 2 اکتوبر کو جھگڑے کے دوران میں ان کی موت ہوگئی تھی۔اس واقعے میں ملوث ہونے کے الزام میں اٹھارہ سعودی شہری زیر حراست ہیں اور ان سے تفتیش کی جارہی ہے ۔

سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے جمال خاشقجی کی موت کے واقعے کو ایک سنگین غلطی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کیس میں ملوّث افراد کا احتساب کیا جائے گا۔انھوں نے فاکس نیوز سے اتوار کو ایک انٹرویو میں کہا کہ’’ شاہ سلمان بن عبدالعزیز جمال خاشقجی کے قاتلوں کے احتساب کے لیے پُرعزم ہیں ۔ان کی موت کے ذمے دار افراد میں سے کسی کے بھی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے کوئی قریبی تعلقات نہیں تھے اور نہ ان میں ان کے قریبی کوئی لوگ شامل تھے۔یہ ایک آپریشن تھا اور روگ آپریشن تھا‘‘۔