.

امریکی پابندیوں کے نفاذ کے بعد مشکلات آنے والی ہیں: ایرانی نائب صدر کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے نائب صدر اسحاق جہانگیری نے اعتراف کیا ہے کہ امریکا کی پابندیوں کے نفاذ کے بعد مشکلات آنے والی ہیں اور حکام کو عوام کو اس بارے میں آگاہ کردینا چاہیے۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا کے مطابق اسحاق جہانگیری نے منگل کو ایک بیان میں کہا ’’ ہماری یہ ذمے داری ہے کہ ہم خود کو بعض خوف وخدشات کے لیے تیار رکھیں لیکن عوام سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں رکھا جانا چاہیے ۔یہ عوام کا حق ہے‘‘۔

امریکا نے سوموار کو ایران کے تیل ، بنک نظام اور ٹرانسپورٹ کے شعبے پر دوبارہ سخت پابندیوں عاید کردی ہیں اور ایران کو ’’ غیر قانونی ‘‘ پالیسیوں سے باز رکھنے کے لیے مزید پابندیوں کی بھی دھمکی دی ہے۔ایران نے امریکی اقدام کو ایک اقتصادی جنگ قرار دیا ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو جوہری اور میزائل پروگرام سے دستبردار کرانے کے لیے اس کی تیل کی برآمدات کو ہدف بنانا ہے اور اس کے مالیاتی شعبے پر نئی قدغنیں عاید کی ہیں۔ان کے تحت ایران کے پچاس بنکوں اور ان کے ذیلی اداروں کے غیرملکی بنکوں اور امریکا کے مالیاتی نظام سے روابط منقطع کردیے گئے ہیں۔اب ایرانی بنک امریکا کے مالیاتی نظام سے کسی طرح کا لین دین نہیں کرسکیں گے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے گذشتہ روز ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران اپنے خلاف پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے بعد لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور یمن کی حوثی ملیشیا کو رقوم مہیا نہیں کر سکے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کے’’ بُرے کردار‘‘ کو تبدیل کرنے کے لیے یہ نئی پابندیاں وضع کی گئی ہیں اور ان کا مقصد بالخصوص اس کو حزب اللہ ایسے دہشت گرد گروپوں کی مالی معاونت سے روکنا ہے‘‘۔