ٹرمپ کا عراق کا غیر اعلانیہ دورہ ، وزیراعظم عبدالمہدی سے ٹیلیفونک رابطے پر اکتفا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی کے میڈیا بیورو کے ایک بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عراق کے غیر اعلانیہ دورے کے حوالے سے تفصیلات بیان کی گئیں ہیں۔

جمعرات کی صبح جاری بیان کی ایک کاپی "العربیہ" کو بھی موصول ہوئی ہے۔ بیان کے مطابق امریکی حکام نے عراقی حکام کو آگاہ کیا تھا کہ کہ ڈونلڈ ٹرمپ 26 دسمبر کی شام عراق کے دورے کی خواہش رکھتے ہیں۔ دورے کا مقصد نئی عراقی حکومت کو مبارک باد پیش کرنا اور داعش کے خلاف جنگ میں عراق کو سپورٹ کرنے والے بین الاقوامی اتحاد کی فورسز میں شامل امریکی فوجی اہل کاروں سے ملاقات کرنا تھا۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ عراقی حکومت نے اس درخواست کا خیر مقدم کیا اور اس سلسلے میں سرکاری طور پر امریکی صدر کا استقبال اور عراقی وزیراعظم کے ساتھ ان کی ملاقات طے ہو چکی تھی۔ تاہم ملاقات کے انتظام کے حوالے سے نقطہ ہائے نظر میں عدم موافقت کے سبب اسے ٹیلیفونک رابطے میں تبدیل کر دیا گیا۔

بیان کے مطابق ٹرمپ اور عبدالمہدی کے درمیان بات چیت میں عراق کی صورت حال، شام سے امریکی فورسز کا انخلا، داعش کے خلاف جنگ میں مشترکہ تعاون اور خطے کے ممالک اور عوام کے لیے امن و استحکام کو یقینی بنانے پر تبادلہ خیال ہوا۔ گفتگو کے دوران عراقی وزیر اعظم اور امریکی صدر نے ایک دوسرے کو بغداد اور واشنگٹن کے دورے کی دعوت دی۔

اس سے قبل وہائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ امریکی صدر اور خاتون اول انبار صوبے میں امریکی فوجی اڈے عین الاسد کا دورہ کریں گے تا کہ امریکی فوجیوں کو کرسمس کی مبارک باد پیش کریں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عراق کے خفیہ دورے کے انکشاف کے بعد عراق میں سیاسی اور عوامی حلقوں میں وسیع تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں دورے کے انتظامات کے حوالے سے عراقی حکومت کے ساتھ رابطہ کاری کی نوعیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

امریکی صدر نے اپنے دورے میں انکشاف کیا کہ وہ عراق سے اپنی فوجیں واپس بلانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے اور عراق کو دہشت گردی کے خلاف اڈے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر امریکی قومی سلامتی کے مشیر جون بولٹن بھی ٹرمپ کے ساتھ موجود تھے۔


مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں