.

ایردوآن کھوکھلی شخصیت،سبزیوں کی مہنگائی بھی بیرونی سازش قرار دی:امریکی اخبار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی اخبار'نیویارک ٹائمز' نے اپنی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متکبرانہ لہجے اور بلند آہنگ نعروں پرمبنی سیاست پر ایک تفصیلی رپورٹ میں روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ ترک صدر اندر سے ایک کھوکھلا انسان ہیں جو بحرانوں پر پردہ ڈالنے کے لیے چیخ چیخ کر باتیں کرتے اور متکبرانہ انداز میں نعرے لگاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حال ہی میں ترک صدر نے مشرقی علاقے سیفاس میں ایک جلسہ عام سے خطاب شروع کیا تو انہیں اس وقت مشکل کا سامنا کرنا پڑا جب مزدوروں کے ایک گروپ نے اپنی اجرت میں اضافے اور ملازمتیں دینے کے لیے زور زور سے نعرے لگانے شروع کردیے۔

صدر ایردوآن نے مظاہرین کے احتجاج کے جواب میں غضباک لہجہ اختیار کیا اور ان سے مخاطب ہو کر کہا کہ'ہم سے کوئی توقع نہ رکھیں'۔ ساتھ ہی متکبرانہ لہجے میں کہا کہ 'میں کوئی روایتی سیاسی دان نہیں۔ اس جلسے میں ہمارے لیے مشکلات پیدا نہ کی جائیں ورنہ اس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

اس کے ساتھ ہی طیب ایردوآن کے حامی اور بعض اجرتی نعرے بازوں نے زور زور سے صدر کے حق میں نعرے لگانا شروع کردیے۔ یوں مزدوروں کے نعرے اور ان کا احتجاج دب کر رہ گیا۔

ایردوآن کا کھوکھلا پن

امریکی اخبار کے مطابق ترک صدر اندر سے کھوکھلے ہیں۔ ان میں ملک کو درپیش مسائل اور عوام کے مطالبات کے حل کی صلاحیت نہیں۔ وہ جب بھی کسی جلسے میں خطاب کے لیے آتے ہیں تو انہیں مہنگائی کے خلاف نعرے سننا پڑتے ہیں۔ ایردوآن کو اقتدار سنھبالے 17 برس ہوگئے ہیں۔ اس عرصے میں اگرچہ ترکی نے معاشی میدان میں اہم پیش قدمی کی مگر گذشتہ ایک سال سے ایردوآن کی حکومت بدترین معاشی بحران کا سامناکررہی ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ صدر طیب ایردوآن کو معاشی مشکلات کے حل میں اب کوئی دلچسپی نہیں رہی ہے۔ وہ داخلی بحران کو بیرونی سازشوں کا شاخسانہ قراردیتے ہیں حالانکہ مہنگائی کا غیرملکی سازشوں سے کوئی تعلق نہیں۔

سبزیوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

ڈیڑھ عشرے تک ترکی میں شرح نمو میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے مگر اب ترکی کی معیشت کساد بازاری کا شکار ہے۔ کریڈٹ کا بحران پیدا ہونے کے بعد سرمایہ کاروں کا حکومت پر اعتماد کم ہوگیا ہے۔ بے روزگاری تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے اور افراط زر میں غیرمعمولی اضافہ ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے ہے کہ روز مرہ استعمال کی اشیاء بھی مہنگی ہو رہی ہیں۔ غذائی اجناس کی قیمتوں میں جنون کی حد تک اضافہ ہوچکا ہے۔

"آق" پارٹی کو مشکل چیلنج درپیش

ترک صدر طیب ایردوآن کی قیادت میں حکمراں جماعت"آق" پارٹی اس وقت مشکل ترین دور سے گذر رہی ہے۔ بلدیاتی انتخابات سر پرہیں اور آق پارٹی کو ان انتخابات میں کامیابی کے حصول کے لیے عوام کے سامنے پیش کرنے کے لیے کچھ نہیں۔ طیب ایردوآن کا کہنا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں ان کی جماعت اور دیگر حامی کامیاب ہوجائیں گے جس کے بعد وہ ملک کو بحران سے نکال لیں گے۔ اقتصادی مشکلات دور ہوجائیں گی مگر مبصرین ترک صدر کے ا دعوے سے اتفاق نہیں کرتے۔

ایردوآن کا انتخابی طریقہ کار

ترک صدر نے حالیہ عرصے میں اپنی انتخابی کامیابیوں کے لیے ایک نیا طریقہ کار اپنایا ہے۔ وہ ایک طرف تو اقتصادی بحران کی ذمہ داری اور الزام اپنے مخالفین پرعاید کرتے ہیں اور دوسری طرف مارکیٹ میں پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں کمی کے لیے جوہری اقدامات کے ساتھ ساتھ آق پارٹی کی حمایت کو برقرار رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔

وہ ملک میں جاری معاشی بحران میں اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرنے کے بجائے اسے غیرملکی سازش قرار دیتےہیں۔ اس کےساتھ ساتھ وہ تاجر برادری پربھی عوام کو دھوکہ دینے اور اشیاء کی قیمتوں میں مصنوعی اضافے کا الزام دھرتے ہیں۔ سیاسی مخالفین پر ان کا الزام ہے کہ وہ معاشی بحران اور مہنگائی کے معاملے کوبڑھا چڑھا کر عوام کے سامنے پیش کرکے الیکشن میں اپنی کامیابی یقینی بنانا چاہتے ہیں۔