.

ترکی دانستہ طورپر 'داعش' کو فنڈز روکنے میں ناکام رہا:امریکی فائونڈیشن کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں جمہوری اقدار کےفروغ‌کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم نے ترکی پر 'داعش' کو فنڈز کی فراہمی کی سہولت فراہم کرنے کاالزام عاید کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق امریکی وزارت خزانہ کے زیرانتظام غیرملکی اثاثوں پر نظر رکھنے والے دفتر 'OFAC ' نے رواں ماہ کے وسط میں بنکنگ سیکٹر سے تعلق رکھنے والے ایسے چھ افراد جن کے ترکی میں دفاتر قائم ہیں کو بلیک لسٹ کردیاتھا۔ ان پر مبینہ طورپر 'داعش' کو رقوم کی فراہمی میں معاونت کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔

امریکا میں دفاع جمہوریت فائونڈیشن FDD کی محققہ 'میرفی طاھر اوگلو' نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی محکمہ خزانہ کے ذیلی دفتر کا دہشت گرد گروپ کے مالیاتی نیٹ ورک سے وابستہ افراد کو بلیک لسٹ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ انقرہ حکومت دانستہ طور پر 'داعش' کو رقوم کی فراہمی میں کوتاہی کی مرتکب ہوتی رہی ہے۔

اوگلوکی تیارکردہ تفصیلی رپورٹ میں امریکی محکمہ خزانہ کی طرف سے بلیک لسٹ کیے گئے ان چھ باشندوں کے ناموں کے ساتھ ان کی سرگرمیوں کی تفصیلات بھی درج ہیں۔ یہ سب 'الراوی نیٹ ورک' نامی ایک مشتبہ مالیاتی نیٹ ورک کےساتھ وابستہ ہیں اور ان میں بیلجیم میں مقیم عراقی نژاد مشتاق طالب زغیرالراوی پرالزام ہے کہ وہ ترکی اور عراق کے درمیان رقوم کی منتقلی کے لیے نیٹ ورک چلا رہا ہے۔ اس کےعلاوہ اس گروپ میں اس کا ایک بیٹا اور دو بھائی اور دو دیگر اقارب شامل ہیں۔

داعش کو رقوم کی منتقلی

امریکی محکمہ خزانہ کے OFAC دفترسےجاری ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ الراوی گروپ سنہ 2017ء سے ترکی کے راستے داعش تک رقوم منتقل کرتا رہا ہے۔ یہ سب کچھ ترک حکومت کی ناک تلے ہوتا رہا۔ ترکی میں داعشی جنگجوئوں تک رقوم کی ترسیل میں مقامی لوگ معاونت کرتے رہے۔

OFAC کا کہنا ہے کہ الراوی مالیاتی نیٹ ورک شمالی ترکی کے علاقے سامسون میں رقم پہنچاتا جہاںسے وہ رقم شام اور عراق میں موجود داعش کےجنگجوئوں تک پہنچائی جاتی تھی۔ سنہ 2018ء کے دوران الراوی نیٹ ورک کو ترکی میں ایک نئی بنکنگ کمپنی کے طور پر ابھرتے دیکھا گیا مگر اس کے داعش کے ساتھ مشکوک تعلقات کی بناء پر امریکی وزارت خزانہ نے اسے بلیک لسٹ کردیا تھا۔

داعش عناصر اور اس کے ایجنٹ

امریکی ادارے'OFAC 'کی طرف سے ترکی میں داعش تک رقوم کی ترسیل کرنے کے اور داعش کے مالی معاونت کاروں سمیت 11 افراد کو بلیک لسٹ کیا۔ یہ لوگ القاعدہ اور جہاد اسلامی جیسی شدت تنظیموں کو بھی رقوم مہیا کر رہے تھے۔
سنہ 2014ء میں ترکی کو شام میں داعش کے جنگجوئوں تک اسلحہ اور رقوم کی اسمگلنگ کی آسان گذرگاہ تصور کیا جاتا تھا۔
میرفی طاھر اوگلو کی رپورٹ‌کے مطابق امریکا کی طرف سے ترکی کو بار بار خبردار کیا گیاتھا کہ وہ شام کے ساتھ متصل 550 میل طویل سرحد کی نگرانی سخت کرے اور داعشی دہشت گرودں کی سرحد پار آمد ورفت پرنظر رکھے مگر ترکی نے سنہ 2016ء تک اس حوالے سے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔

ترکی کی دہشت گردوں کی دانستہ معاونت

'FDD ' کی رپورٹ کے مطابق ترکی کے راستے 'داعش' کے جنگجوئوں تک رقوم کی منتقلی کے حوالے سے ہونے والی چھان بین کے جو نتائج سامنے آئے ہیں ان سے واضح ہوتا ہےکہ انقرہ ترکی میں دہشت گرد گروپوں کی بیخ کنی میں دانستہ کوتاہی کامرتکب ہورہا ہے۔ ترکی کی جانب سے داعش اور دیگر دہشت گردوں تک رقومات کی ترسیل انقرہ کا سوچا سمجھا پلان ہے۔ اسے ترکی کی نا اہلی نہیں بلکہ دانستہ غفلت سمجھا جائے گا۔

ترکی میں 2016ء کی ناکام فوجی بغٍاوت کے بعد صدر رجب طیب ایردوآن نے پوری ریاستی مشینری اور عدلیہ کو ریاستی اداروں پراپنی گرفت مضبوط بنانے اور مخالفین کودیوار سے لگانے کے لیے استعمال کیا۔

اس عرصے میں ترک پولیس نے صحافیوں، فن کاروں، سیاسی رہ نمائوں اور انسانی حقوق کےکارکنوں کے خلاف بھی دہشت گردی کے مزعومہ الزامات کے تحت کریک ڈائون کیا اور ڈیڑھ لاکھ کےقریب لوگوں کو پابند سالسل کردیا گیا۔ دوسری جانب ترکی میں دہشت گردی میں ملوث عناصر کو کھلی چھٹی دی گئی دہشت گردی کے الزامات کے تحت جیلوں میں قید شدت پسندوں کو رہا کردیا۔