لیبیا کی مسلحا فواج نے ملک میں جاری بحران کے حل کےلیے فارمولہ پیش کردیا
لیبیا کی سرکاری فوج نے دارالحکومت طرابلس کا قبضہ حاصل کرنے کے بعد کل بدھ کے روز ملک کی تمام سیاسی قوتوں کے ساتھ نیا مصالحتی پروگرام پیش کیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق لیبیا کی قومی فوج کے ترجمان جنرل احمد المسماری نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ جن انتہا پسند لوگوں نے ہمارے ملک کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا وہ ہمارے مصالحتی پروگرام میں شامل نہیں ہوں گے۔
المسماری کا کہنا تھا کہ فوج ملک میں ایک ایسی حکومت تشکیل دینا چاہتی ہے جو بہتر انداز میںملک کا نظم ونسق سنبھالے۔ انہوں نے اقوام متحدہ سے لیبیا کی قوتوں میں مذاکرات کی سرپرستی پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل آرمی اور سیاسی قوتوں کےدرمیان مذاکرات آئندہ ہونےوالے پارلیمانی انتخابات کی تاریخ کے تعین میں مدد دے سکتے ہیں۔
فوج کےہاتھوں پکڑے گئے ایک امریکی اجرتی قاتل پائلٹ کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں جنرل المسماری نے کہا کہ مذکورہ پائلٹ نے ترکی میں عسکری تربیت حاصل کی۔ اس نے دوران حراست لیبی فوج کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لینے کا اعتراف کیا ہے۔ اسے جلد ہی اس کے ملک کے حوالے کردیا جائے گا۔
اسی سایق میں بات کرتے ہوئے لیبیا کی قومی فوج کے ترجمان نے کہا کہ جبل غربان میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جبل غریان کے مقام پر فوج اور باغیوں کےدرمیان جھڑپیں جاری ہیں۔
منگل کے روز لیبی فوج کو دارالحکومت طرابلس کے قبضے کے حصول کے لیے لڑنے کے لیے فوج کو مزید کمک فراہم کی گئی۔ یہ فوج اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ لیبی حکومت اور اس کے حامی انتہا پسند گروپوں کے خلاف لڑ رہی ہے۔