امریکا کے ساتھ کشیدگی میں کمی کے واسطے ایرانی صدر کا منصوبہ ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ایرانی میڈیا کے مطابق صدر حسن روحانی کی جانب سے اپنے فرانسیسی ہم منصب کو بھیجے گئے پیغام میں تہران اور واشنگٹن کے بیچ کشیدگی کے حل کے سلسلے میں عمانوئل ماکروں کے منصوبے کا متبادل منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔

ایرانی ویب سائٹ "الف" نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایرانی نائب وزیر خارجہ عباس عراقجی نے اپنے پیرس کے دورے میں ماکروں کو روحانی کا پیغام پہنچایا جس میں ایرانی صدر کی تجاویز شامل تھیں۔

ویب سائٹ کے مطابق ایران جوہری معاہدے میں امریکا کی واپسی کے اصرار کے بغیر ... تہران پر پابندیوں میں نرمی کی شرط پر مغرب کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنے کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔

روحانی کی جانب سے "متبادل حل" کی بنیاد پر واشنگٹن ایران سے مطالبہ نہیں کرے گا کہ وہ جوہری معاہدے کے لیے مشترکہ ورکنگ پلان میں واپس آئے البتہ تہران صرف اس بات کا مطالبہ کر رہا ہے کہ ایرانی تیل اور بین الاقوامی بینکنگ خدمات پر عائد پابندیاں واپس لے لی جائیں۔

روحانی کے منصوبے کے مطابق اس کے مقابل ایران جوہری پاسداریوں میں کمی لانے کا سلسلہ روک دے گا۔ ان میں یورینیم کی افزودگی کی 3.67% کی حد شامل ہے۔

اس سے قبل روحانی نے گذشتہ روز بدھ کو کہا تھا کہ اگر یورپی ممالک نے جبل طارق میں ایرانی تیل بردار جہاز تحویل میں لینے جیسے غلط اقدامات روک دیے تو وہ تہران کی جانب سے مناسب جواب دیکھیں گے۔ روحانی کے مطابق ایران واشنگٹن کے ساتھ منصفانہ اور قانونی طریقے سے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ ایرانی صدر نے باور کرایا کہ اگر بات چیت کا مطلب ہتھیار ڈال دینا ہے تو وہ مذاکرات کی میز پر ہر گز نہیں آئیں گے۔

تاہم امریکا کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ایران کا سرکاری موقف ابھی تک انقسام کا شکار ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے عسکری مشیر حسین دہقان کے نے بدھ کے روز اپنے بیان میں کہا کہ خلیج کی صورت حال میں کسی بھی قسم کی تبدیلی لانے کا نتیجہ خطرناک تصادم کی صورت میں سامنے آئے گا۔ دہقان نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے خامنہ ای کا سرکاری موقف دہراتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی صورت میں امریکا کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا ... اور اگر واشنگٹن نے ایران کے ساتھ جنگ چھیڑی تو خطے میں تمام امریکی اڈوں کو ایرانی فورسز کی بم باری کا نشانہ بننا پڑے گا۔

ایسے وقت میں جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے ساتھ ایک ایسے نئے معاہدے کے لیے کوشاں ہے جس میں تہران کا بیلسٹک میزائل پروگرام بھی شامل ہو ... دہقان نے باور کرایا کہ ایران اپنے میزائل پروگرام کے سلسلے میں کسی شخص کے ساتھ بات چیت نہیں کرے گا۔

یاد رہے کہ واشنگٹن کئی بار ایران کے ساتھ مذاکرات کے اجرا کی دعوت دے چکا ہے۔ ساتھ ہی وہ تہران پر انتہائی دباؤ ڈالتا رہا ہے تا کہ ایران بیلسٹک میزائل پروگرام، علاقائی عزائم اور اسی طرح جوہری معاہدے کے سلسلے میں مذاکرات قبول کر لے۔

ایک طرف روحانی کی حکومت جوہری معاہدے کے حوالے سے کسی بھی نئے مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے پابندیوں میں نرمی کے مقابل پرانے معاہدے پر لوٹنے اور دیگر مذاکرات کے اجراء کا مطالبہ کر رہی ہے .. تو دوسری طرف خامنہ ای نے امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت کو مسترد کر دیا ہے۔ خامنہ نے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کو "دُہرا زہر" قرار دیا ہے۔

دوسری جانب ایرانی صدر حسن روحانی نے بدھ کے روز کابینہ کے ایک اجلاس میں کہا کہ "ايران اور خلیجی ممالک آبنائے ہرمز اور خلیج میں جہاز رانی کی سلامتی اور تحفظ اور خطے میں سیکورٹی کے ذمے دار ہیں۔

تاہم ساتھ ہی روحانی نے برطانوی تیل بردار جہاز کو تحویل میں لینے پر پاسداران انقلاب کو سراہتے ہوئے کہا کہ "بین الاقوامی ضابطوں کے مطابق آبنائے ہرمز کسی کھیل یا مذاق کی جگہ نہیں ہے"۔

ایرانی صدر نے زور دے کر کہا کہ ان کا ملک خطے میں فوجی مقابلہ نہیں چاہتا ہے۔ تاہم روحانی نے دھمکی دی کہ "ایران کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دے گا کہ وہ خلیج یا آبنائے ہرمز کا نظام معطل کرے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں