.

امریکا کا ڈرون حملے کے بعد سعودی عرب سے سراغرسانی کے تبادلے میں اضافے پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا سعودی آرامکو کی دو تنصیبات پر ہفتے کے روز ڈرون حملے کے بعد مملکت سے انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے میں اضافے پر غور کررہا ہے۔اس حملے کے بعد سعودی عرب کی تیل کی پیداوار میں نصف تک کمی واقع ہوگئی ہے اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔

امریکی عہدے داروں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دونوں ملکوں کے درمیان انٹیلی جنس کے تبادلے میں اضافے کی اطلاع دی ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ سراغرسانی میں مزید کیا اضافہ کیا جائے گا یا ٹرمپ انتظامیہ حملے کے ردعمل میں کن اقدامات پر غور کررہی ہے۔

امریکا نے سعودی عرب کے ساتھ یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں سے لاحق خطرے کے بارے میں محدود پیمانے پر سراغرسانی کا تبادلہ کیا ہے لیکن اس نے سعودی سکیورٹی اداروں کو حوثی لیڈروں کے بارے میں ٹھیک ٹھیک انٹیلی جنس معلومات فراہم نہیں کی ہیں کہ جن کی بنیاد پر عرب اتحاد ان کے خلاف کارروائی کرسکے حالانکہ امریکا ایک عرصے سے ایران پر حوثی باغیوں کی حمایت کا الزام عاید کرتا چلا آرہا ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا نے سعودی آرامکو کی تنصیبات پر حملوں کے جواب میں ’لاک اور لوڈ‘ کرلیا ہے۔انھوں نے ایران کے اس دعوے کے بارے میں سوال کیا ہے جس میں اس کا کہنا ہے کہ اس کا آرامکو کی تنصیبات پر حملے سے کوئی تعلق نہیں ۔

ایران تعلق

ایرانی عہدے دار گذشتہ کئی ماہ سے ملفوف دھمکیاں دے رہے ہیں کہ اگر ایران کی تیل کی برآمدات کو روکنے کی کوشش کی گئی تو پھر دوسرے ممالک بھی عالمی مارکیٹ میں تیل برآمد نہیں کرسکیں گے۔

تاہم ایران نے حالیہ مہینوں کے دوران میں پے درپے مختلف حملوں میں کسی بھی قسم کے کردار سے انکار کیا ہے۔اس دوران میں خلیج میں آئیل ٹینکروں پر حملے کیے گئے ہیں اور حوثیوں نے یمن سے سعودی عرب کے شہروں پر بیلسٹک میزائلوں یا مسلح ڈرونز سے حملے کیے ہیں۔

حوثیوں نے مزید حملوں کو بھی دھمکی ہے۔حوثی ملیشیا کے فوجی ترجمان یحییٰ ساریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے گروپ ہی نے ہفتے کو علی الصباح سعودی آرامکو کی تنصیبات پر دو ڈرون حملے کیے تھے۔

لیکن متعدد امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ سعودی آرامکو پر ڈرون حملہ مخالف سمت سے کیا گیا تھا اور یہ یمن نہیں بلکہ خود ایران سے بھی ہوسکتا ہے۔

ایک امریکی عہدہ دار نے اتوار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’اس میں کوئی شک نہیں ایران ہی اس حملے کا واحد ذمے دار ہے۔آپ خواہ کچھ ہی کہیں لیکن اس سے راہ فرار اختیار نہیں کرسکتے۔اس حملے کے تعلق سے کسی اور فریق پر حرف زنی نہیں کی جاسکتی‘‘۔