.

سعودی ولی عہد کی سیاحتی پالیسی ثمر آور ثابت ہوئی: نیویارک ٹائمز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نیویارک ٹائمز نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سربراہی میں سعودی عرب کی سیاحتی حکمت عملی موثر اور نتیجہ خیز ثابت ہوئی ہے جس کے نتیجے میں کئی دھائیوں سے بند رہنے کے بعد سعودی عرب میں سیاحت کے دروازے ایک بار پھر کھل گئے ہیں۔ مُملکت ایک بار پھرعالمی سیاحت کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ رواں سال سعودی عرب میں ہوٹلوں کی سرگرمیوں میں پچھلے سال کی نسبت غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔

امریکی اخبار نے لکھا ہے کہ سعودی عرب نے پہلی بار سیاحتی ویزے کے اجراء کے ساتھ ہی خود کو ایک اہم سیاحتی مقام کے طور پرپیش کیا ہے۔ یہ سعودی عرب کی نمایاں پالیسی میں اہم تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔

سعودی عرب نے تیل پر انحصار کم کرنے کی پالیسی پرعمل کرتے ہوئے ملک میں اربوں ڈالر کے سیاحتی منصوبے لگائے ہیں۔ نئے ہوائی اڈے تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ سرکاری ملازمتوں پرانحصار کم کرکے کاروبار اور نجی شعبے میں کام کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس پالیسی کے نتیجے میں سعودی عرب کی معیشت میں مزید بہتری کے آثار نمودار ہو رہے ہیں اور معیشت تیزی کے ساتھ شاہراہ ترقی پرگامزن ہے۔

سیاحت کے اعتبار سے ماضی میں سعودی عرب کوئی زیادہ پرکشش مقام م نہیں رہا۔ البتہ مملکت میں سال بھر عمرہ زائرین اور حجاج کرام کی آمد ورفت رہتی ہے۔ سعودہ عرب میں کئی دھائیوں تک تاریخی مقامات کی سیاحت کو نظرانداز کیا گیا اور بڑے شہرں سے باہر ہوٹلوں اور ٹریول سروسز کی سرگرمیاں نہ ہونے کے مترادف رہی ہیں مگر اب حالات تیزی کے ساتھ تبدیل ہو رہے ہیں۔

امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق سعودی حکومت ملک میں ٹریول انڈسٹری کو دوبارہ زندہ اور فعال کرنا چاہتی ہے۔ اس انڈسٹری میں تقریبا چھ لاکھ افراد کے لیے ملازمت کے مواقع ہیں۔ اس صنعت کو فروغ دے کر ملازمت کے مواقع ایک ملین تک بڑھائے جاسکتے ہیں۔ ڈرائیوروں ، شیفوں ، گائڈز ، ہوٹلوں کے منیجروں اور آثار قدیمہ کے ماہرین، الغرض سیاحت کے حوالے سے کئی پیشوں کے ماہرین کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔

سیاحت کی ترقی کا نیا قدم مملکت میں مرکزی پالیسی بنانے والے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے رکھا ہے۔ انہوں نے معیشت کو تنوع بخش بنانے ، مزید غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول اور نجی شعبے کو وسعت دینے کے لیے ویژن 2030 کا پروگرام پیش کیا اور اس پرعمل درآمد شروع کرایا۔ یہ منصوبہ تیزی کے ساتھ اپنی منزل کی طرف بڑھ رہا ہے۔

فی الحال سعودی رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں ایگزیکٹوز کی تقرریاں کررہا ہے۔ رئیل اسٹیٹ کو نقشے پر زندہ رکھنے کوشش کرنے کے لیے پبلسٹی مہمات جاری ہیں۔ سعودی ولی عہد کی پالیسی کے نتائج سامنے آ رہے ہیں، ایسے اشاریئے موجود ہیں جن کو سامنے رکھ کر ہم کہہ سکتےہیں کہ ولی عہد کی پالیسیوں کے مثبت اثرات اور نتائج سامنے آنے لگےہیں۔ سعودی عرب میں 2019ء کے دوران ہوٹلوں کی بُکنگ میں پچھلےسال کی نسبت 11 اعشاریہ 8 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

اس سلسلے میں مُلک میں سیاحت کے شعبے کے عہدیداروں نے سعودی عرب سیاحت کے حوالے سے پائے جانے والے منفی تاثر کو ختم کیا ہے۔انہوں نے سوشل میڈیا پر موثر شخصیات کو مُملکت کے دورے کی کامیاب ترغیبات دیں جس کے نتیجے میں ان کے سیاحتی دوروں کی راہ ہموار ہوئی۔

مُملکت سعودی عرب کے جدید سیاحتی مقامات ، قدیم تہذیبوں کے مراکز اور رومانوی صحرائی مناظر سے دنیا کو آگاہ کرنے کی پالیسی اپنائی۔

رائل کمیشن برائے العلا کے چیف ایگزیکٹو عمرو المدنی نے خطے کے زبردست سنہری مواقع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں اسے نیا 'زرد رنگ کا تیل' کہتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ العلا میں زمانہ قدیم میں تراشی گئی چٹانوں، 'مدن صالح' کے کھنڈرات اہم سیاحتی مقامات ہیں۔ یہ مقامات جنوبی اردن سیاحتی مقام البترا سے کسی طور کم نہیں۔ یہ علاقہ آج سے دو ہزار سال قبل نبطیوں نے آباد کیا اور اس تہذیب کے کھنڈرات عالمی سیاحوں کے لیے غیرمعمولی کشش رکھتے ہیں۔

اس وسیع علاقے کی آبادی 45،000 افراد پر مشتمل ہے۔ یہاں کئی سیرگاہیں موجود ہیں۔ فرانسیسی ایکور سیریز نے حال ہی میں ان سیاحتی مقام کے انتظامات سنبھالنے پر اتفاق کیا ہے۔ عمرومدنی کا کہنا ہے کہ العلاء میں ہوائی اڈوں، ہوٹلوں کی تعمیرو توسیع اور انہیں عالمی معیار کے مطابق تیار کرکے دو ملین زائرین اور سیاحوں کو اس علاقے میں لایا جا سکتا ہے جس سے 20 ارب ڈالر کی سالانہ سرمایہ کاری کا حصول ممکن ہے۔

سعودی عرب کے مغربی ساحل پرایک اوراسکیم زیر تعمیر ہے۔ بحر احمر پراجیکٹ ایک 120 میل کے ساحلی پٹی پر پھیلا ہوا ہے۔ اس میں 90 سے زیادہ جزیرے جو آنے والے وقت میں اسکائی ڈائیونگ اورغوطہ خوری کی جنت بن سکتے ہیں۔

سعودی عرب وہاں پر لگژری ہوٹلوں کے قیام پرکام کررہا ہے۔ پہلے مرحلے میں 14 ہوٹل شامل ہیں۔اس منصوبے کی تکمیل سے سالانہ چھ ارب ڈالر کی آمدن متوقع ہے۔ ایکور نے اس میں شرکت پر اتفاق کیا ہےاور ڈویلپرز کا کہنا ہے کہ وہ ہوٹل کے دیگر بین الاقوامی گروپوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔