.

لیبیا کے متحارب فریق قیدیوں کے تبادلے کاعمل اور مذاکرات جاری رکھنے پرمتفق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے دونوں متحارب فریقوں نے قیدیوں کے تبادلے کا عمل اور جنگ بندی کے جامع سمجھوتے تک مذاکرات جاری رکھنے سے اتفاق کیا ہے۔

لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے مشن نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’دونوں فریقوں نے مذاکرات کو جاری رکھنے کی ضرورت سے اتفاق کیا ہے تاکہ جنگ بندی کے جامع سمجھوتے پراتفاق کیا جاسکے۔مشن نے لیبی فریقوں کے درمیان 18 فروری کو جنیوا میں مذاکرات کے نئے دور کی تجویز پیش کی ہے۔‘‘

لیبیا کے متحارب فریقوں کے درمیان جنیوا میں گذشتہ سوموار کو اقوام متحدہ کے زیراہتمام ان مذاکرات کا آغاز ہوا تھا۔ان مذاکرات میں لیبیا کی اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ قومی اتحاد کی حکومت (جی این اے) کے مقرر کردہ پانچ سینیر حکام اور جنرل خلیفہ حفتر کے زیرقیادت لیبی قومی فوج (ایل این اے) کے پانچ سینیرافسروں نے شرکت کی ہے۔

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے لیبیا غسان سلامہ ان مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کررہے ہیں۔ انھوں نے گذشتہ ہفتے غیرملکی کرداروں کی لیبیا کے داخلی امور میں بے جا مداخلت پر کڑی نکتہ چینی کی تھی۔

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ جرمنی کے دارالحکومت برلن میں منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس میں عالمی لیڈروں نے لیبیا میں غیرملکی مداخلت ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا اور اس ملک میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے متحارب فریقوں کو اسلحہ فروخت کرنے پرعاید پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

لیبیا2011ء میں سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کی نیٹو کی فوجی مداخلت کے نتیجے میں حکومت کے خاتمے کے بعد سے خانہ جنگی کا شکار ہے۔اس وقت ملک میں دو متوازی حکومتیں قائم ہیں اور ان کے تحت فوجیں اور ملیشیائیں ایک دوسرے کے خلاف جنگ آزما ہیں۔

لیبیا میں جاری تنازع کو گذشتہ سال اپریل میں جنرل خلیفہ حفتر کے زیر قیادت فوج کی دارالحکومت طرابلس پر چڑھائی کے بعد مہمیز ملی تھی۔طرابلس پر وزیراعظم فایزالسراج کے زیر قیادت جی این اے کی حکومت کا کنٹرول ہے جبکہ خلیفہ حفتر کے زیر قیادت لیبی قومی فوج کا ملک کے جنوب اور مشرق میں کنٹرول ہے۔