.

کرونا وائرس کو معمولی قرار دینے والی ایرانی ٹی وی کی پیش کار خودمہلک مرض کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کرونا کے مہلک وائرس کو عام زکام قرار دینے والی ایران کے سرکاری ٹی وی کی پیش کار اب خود اس مہلک مرض کا شکار ہوگئی ہیں اور انھیں قرنطینہ منتقل کردیا گیا ہے۔

ٹی وی پیش کار عاطفہ میر سیّدی نے ایران میں کرونا وائرس پھیلنے کے ابتدائی ایام میں کہا تھا کہ یہ کوئی زیادہ خطرناک نہیں ہے۔اس پر انھیں کڑی تنقید کا نشانہ بننا پڑا تھا۔

انھوں نے 21 فروری کو سرکاری ٹی وی پر ایک پروگرام کے دوران میں کہا تھا:’’اس وائرس سے زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ضبط وتحمل کا مظاہرہ کیجیے۔یہ عام زکام کی طرح آئے گا اور چلا جائے گا۔‘‘

اس سے دو روز پہلے ہی ایران نے سرکاری طور پر کرونا وائرس کے مریضوں کی اطلاع دی تھی اور اس سے ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

عاطفہ نے کہا تھا:’’ میرے خیال میں ، میں اس وائرس کا شکار ہوگئی ہوں۔مجھ میں دو ہفتے قبل سردی لگنے اور زکام کی علامات ظاہر ہوئی تھیں لیکن میں بہتر ہوگئی تھی۔‘‘

اسلامی جمہوریہ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے (اریب) کے ایک عہدہ دار نے سوموار کو ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ میرسیّدی کرونا وائرس کا شکار ہوگئی ہیں۔اس وقت انھیں قرنطینہ میں رکھا جارہا ہے۔

اریب کے ایک اور عہدہ دار نے ایک اور ٹویٹ میں اطلاع دی ہے کہ ادارے کی خبررساں ایجنسی میں کام کرنے والے 19 ملازمین کرونا وائرس کا شکار ہوگئے ہیں۔

ایران نے سوموار کو کرونا وائرس سے مزید ایک سو سے افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔اس کے بعد ملک میں اس مہلک وبا کا شکار ہوکر مرنے والوں کی تعداد 1812 ہوگئی ہے۔ایرانی حکام نے اب تک کرونا وائرس کے 23049 کیسوں کی تصدیق کی ہے۔