.

سعودی عرب تیل مارکیٹ کے استحکام اور اوپیک پلس کی پیداوار میں کٹوتی کے لیے پُرعزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ تیل کی عالمی مارکیٹ میں استحکام چاہتا ہے۔اس نے اپنے اس عزم کا بھی اعادہ کیا ہے کہ وہ روس کے ساتھ مل کر آیندہ دو سال کے دوران میں پیداوار میں کٹوتی کو برقرار رکھے گا۔

سعودی عرب نے یہ اعلان ایسے وقت میں کیا ہے جب امریکا میں خام تیل کی قیمت تیرہ ڈالر فی بیرل تک گر گئی ہے اور امریکا کی تیل مارکیٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ ہوا ہے کہ بعض تیکنیکی امور کی بنا پر مستقبل کے سودے منفی قیمت میں ہوئے ہیں۔

امریکا کی تیل پیداکرنے والی کمپنیوں نے خریداروں کو رقوم ادا کی ہیں اور ان سے کہا ہے کہ وہ بس ان کا نکالا ہوا تیل اپنے قبضے میں لیں کیونکہ ان کے ہاں اپنی پیداوار کو ذخیرہ کرنے کی گنجائش نہیں رہی ہے اور وہ جیسے تیسے تیل خریداروں کے حوالے کررہے ہیں۔

سعودی پریس ایجنسی کے ایک بیان کے مطابق ’’ سعودی عرب کی وزارتی کونسل نے کہا ہے کہ وہ مارکیٹ کی صورت حال کا مسلسل جائزہ لیتی رہے گی اور وہ اوپیک پلس اورتیل پیدا کرنے والے دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر اضافی اقدامات کو بھی تیار ہے۔‘‘

بعض ماہرین نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ امریکا کی تیل مارکیٹ میں کساد بازاری پوری دنیا کی تیل مارکیٹ پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔دنیا کی دوسری مارکیٹوں تک بھی یہ کساد بازاری پھیل سکتی ہے اور یہ تیل کی صنعت کے لیے ایک انتباہی اشارہ ہے۔

منگل کے روز برینٹ نارتھ کی قیمت بھی مختصر وقت کے لیے 20 ڈالر فی بیرل سے کم ہوگئی تھی اورگذشتہ 20 سال میں پہلی مرتبہ مستقبل کے سودے اتنی کم قیمت پر ہوئے ہیں۔

دنیا میں تیل پیدا کرنے والے دو بڑے ممالک سعودی عرب اور روس نے اتوار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ خام تیل کی مارکیٹ کو مزید خسارے سے بچانے کے لیے اپنی پیداوار میں مزید کمی کو تیار ہیں۔

تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک اور روس کی قیادت میں غیراوپیک ممالک نے گذشتہ ہفتے یکم مئی سے تیل کی یومیہ پیداوار میں 97 لاکھ بیرل کمی سے اتفاق کیا تھا۔ان کے درمیان میکسیکو سے سمجھوتے کے بعد اس ضمن میں ایک ڈیل طے پائی تھی۔اس کے تحت تیل کی عالمی پیداوار میں دوماہ تک 20 فی صد کمی واقع ہوگی۔

دریں اثناء امریکا بھی اپنی تیل کی صنعت کی پیداوار میں کمی سے متعلق کوئی فیصلہ کررہا ہے۔اس ضمن میں ٹیکساس آئیل اور گیس ریگولیٹر آج منگل کے روز تیل کی رسد میں کٹوتی کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے والا تھا۔واضح رہے کہ امریکا کی تیل کی کل پیداوار میں اس ریاست کا حصہ 40 فی صد ہے۔