.

ایران کو سیٹلائٹ مدار میں چھوڑنے پرقابلِ مواخذہ گردانا جائے گا: مائیک پومپیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے ایران پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندی کی خلاف ورزی کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے سیٹلائٹ چھوڑ کر سلامتی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

مائیک پومپیو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے :’’ میرے خیال میں ایران جس طرح کا کردار ادا کررہا ہے،اس کو اس پر قابلِ مواخذہ گردانا جائے گا۔‘‘

ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب نے بدھ کو یہ اعلان کیا ہے کہ اس نے پہلا فوجی سیٹلائٹ مدار میں بھیج دیا ہے۔اس طرح اس نے پہلی مرتبہ اپنے خفیہ خلائی پروگرام کا انکشاف کیا ہے۔

اس تجربے پر ماہرین نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ آیا ایران اس ٹیکنالوجی کو بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کی تیاری میں مدد کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔ایران کے پاس اس وقت مختصر اور درمیانے فاصلے تک مار کرانے والے میزائل موجود ہیں۔

دریں اثناء امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی بحریہ کو ہدایت کی ہے کہ سمندر میں امریکی جہازوں کو اگر ہراساں کیا جاتا ہے، تو ہراساں کرنے والی ایران کی کشتیوں کو تباہ کردیا جائے۔

امریکی فوج کے ایک بیان کے مطابق سپاہ پاسداران انقلاب کی بحریہ کی 11 کشتیاں اور چھوٹے جہاز خلیج میں امریکی جہازوں کے خطرناک حد تک نزدیک آگئے تھے۔

امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے نے بیان میں کہا ہے کہ ’’ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کی بحریہ کے جہازوں نے غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ طریقے سے امریکا کے بحری جہازوں کے خلاف کارروائی کی تھی۔انھوں نے خلیج عرب کے شمال میں بین الاقوامی پانیوں میں امریکی جہازوں کے گزرتے وقت یہ کارروائی کی تھی۔‘‘

ایرانی بحری جہاز جن امریکی جہازوں کے نزدیک آئے تھے، ان کی شناخت یو ایس ایس لیوس بی پُلر ، یو ایس ایس پال ہملٹن ، یو ایس ایس فائربولٹ ،یو ایس ایس سیراکو ، یو ایس سی جی سی رینگل اور یو ایس سی جی سی موئی کے نام سے کی گئی ہے۔