.

کرونا وائرس کے گڑھ ووہان شہر میں تمام ہسپتال متاثرہ افراد سے خالی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اگرچہ چین میں معمولی تعداد میں کرونا وائرس کے نئے کیسوں کا اندراج جاری ہے تاہم ایسا نظر آتا ہے کہ ملک اب اس وبائی مرض سے رُو بہ صحت ہونے کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے۔ کرونا وائرس نے دنیا بھر میں 193 سے زیادہ ممالک اور علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔

چین میں امور صحت کے ایک ذمے دار کے مطابق ہوبی صوبے کے شہر ووہان میں جہاں اس عالمی وبا نے جنم لیا تھا ،،، تمام ہسپتال کرونا وائرس کے مریضوں سے خالی ہو چکے ہیں۔ نیشنل ہیلتھ کمیٹی کے ترجمان مے ونگ نے اتوار کے روز ایک پریس بریفنگ میں بتایا کہ "تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ووہان میں کرونا کے نئے کیسوں کی تعداد صفر ہے۔ یہ شہر کی انتظامیہ اور ملک بھر کے طبی کارکنان کی مشترکہ کوششوں کی مہربانی سے ممکن ہوا"۔

چین میں کرونا سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد میں سے 56 فی صد یعنی 46452 کیس ووہان شہر میں درج ہوئے۔ ووہان میں کرونا سے واقع ہونے والی اموات کی تعداد 3869 ہے۔ یہ ملک بھر میں اس وبائی مرض سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد کا 84 فی صد ہے۔

ادھر ہوبی صوبے میں 63.2% سیاحتی مقامات نے دوبارہ سے کام شروع کر دیا ہے۔ ملک کے اس وسطی صوبے میں مقامی حکام کا کہنا ہے کہ وبائی مرض کا زور ٹوٹنے کے بعد A کلاس کے 266 سیاحتی مقامات کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں سرگرمیاں بحال کرنے والے تمام سیاحتی مقامات پر لازم ہے کہ وہ اپنی یومیہ گنجائش کے 30% تک لوگوں کو سیاحت کے لیے آنے دیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب کہ دنیا بھر میں کرونا کی لپیٹ میں آنے والے انسانوں کی مجموعی تعداد 30 لاکھ کے قریب ہے۔ وبا سے مرنے والوں کی تعداد 2 لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے جب کہ 8.15 لاکھ افراد صحت یاب ہو کر طبی مراکز سے رخصت ہو گئے۔

دنیا بھر میں سب سے زیادہ متاثرہ ملک امریکا ہے۔ یہاں کرونا کے کیسوں کی تعداد دس لاکھ ہو چکی ہے اور اموات کی تعداد 35 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ دونوں کے دوران امریکا کی جانب سے بیجنگ پر اس بات کے سخت الزامات عائد کیے گئے کہ چین نے کرونا وائرس اور اس کے ذریعے کے حوالے سے معلومات کو خفیہ رکھا۔ سامنے آنے والی بعض رپورٹوں میں غالب گمان ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ وائرس ووہان شہر کی ایک تجربہ گاہ سے باہر آیا۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایک بار پھر چین پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے اپنے پڑوسی ممالک کو خوف زدہ کرنے کے لیے اس وبا کو محصور کیے رکھا۔ پومپیو کے مطابق چین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ زمینی جانوروں کے بازاروں کو مستقل طور پر بند کر دے ۔