.

کابل میں اسپتال پرحملہ ، ننگرہار میں جنازے میں خودکش بم دھماکا: 37 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں زچہ وبچہ کے ایک اسپتال پر مسلح افراد کے حملے اور مشرقی صوبہ ننگرہار میں پولیس کے کمانڈر کے جنازے پر خودکش بم حملے میں دو نومولود بچوں سمیت 37 افراد مارے گئے ہیں اور 80 سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

افغان حکام کے مطابق منگل کی صبح تین مسلح حملہ آوروں نے کابل میں ڈاکٹروں کی بین الاقوامی تنظیم طبیبان ماورائے سرحد کے زیر اہتمام زچہ بچہ کے ایک اسپتال پر دھاوا بول دیا تھااور اس کے اندر گھس کر بلاامتیاز اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔

تینوں دہشت گرد پولیس کی وردی میں ملبوس تھے۔انھوں نے دشت برچی اسپتال میں دستی بم بھی پھینکے تھے۔افغان وزارت داخلہ کے مطابق حملے میں دو نو مولود بچوں سمیت 13 افراد ہلاک اور 15 زخمی ہوئے ہیں۔ افغان سکیورٹی فورسز نے دوپہر کے بعد حملہ آوروں کو ہلاک کردیا تھا۔

حکام کے مطابق مہلوکین اور زخمیوں میں نومولود بچے ، ان کی مائیں اور نرسیں شامل ہیں۔وزارت داخلہ نے حملے میں مارے گئے دو نومولود بچوں کی تصاویر جاری کی ہیں جبکہ افغان فوجیوں نے خون آلود کمبلوں میں لپٹے کئی بچوں کو اسپتال سے باہر محفوظ مقام پر منتقل کیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ کم سے کم ایک سو افراد کواسپتال سے نکالا گیا ہے۔ ان میں تین غیر ملکی بھی شامل ہیں۔

ادھر ننگرہار میں ایک پولیس کمانڈر کی نماز جنازہ کے دوران میں ایک خودکش بمبار نے حملہ کیا ہے۔جنازے میں سرکاری حکام اور پارلیمان کے ایک رکن سمیت مقامی عمائدین شریک تھے۔بم دھماکے میں 24 افراد ہلاک اور 68 زخمی ہوگئے ہیں۔

دم تحریر کسی جنگجو گروپ نے ان دونوں حملوں میں سے کسی کی بھی ذمے داری قبول نہیں کی تھی جبکہ طالبان مزاحمت کاروں نے ان دونوں حملوں میں ملوّث ہونے سے انکار کیا ہے۔طالبان کا کہنا ہے کہ انھوں نے امریکا کے ساتھ جنگ بندی کے سمجھوتے کے تحت شہروں میں حملے روک دیے ہیں اور وہ صرف سکیورٹی فورسز کو اپنے حملوں میں نشانہ بناتے ہیں۔

ننگرہار کی صوبائی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بم دھماکے میں زخمی ہونے والے بعض افراد کی حالت تشویش ناک ہے،اس لیے مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

پاکستان کی سرحد کے ساتھ واقع صوبہ ننگرہار میں سخت گیر گروپ داعش کے جنگجو بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں اور انھوں نے حالیہ مہینوں کے دوران میں کابل اور دوسرے شہروں میں متعدد بڑے حملوں کی ذمے داری قبول کی ہے۔ان دونوں حملوں سے ایک روز قبل ہی افغان سکیورٹی فورسز نے کابل سے داعش کے علاقائی لیڈر کو دو اور عہدے داروں سمیت گرفتار کرنے کی اطلاع دی تھی۔

پاکستان نے کابل میں بچوں کے اسپتال پر حملے اور ننگرہار میں جنازے پر خودکش بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور انھیں غیرانسانی فعل اور بزدلانہ دہشت گردی قراردیا ہے۔اس نے ان حملوں میں انسانی جانوں کے ضیاع پرافغان عوام کے ساتھ گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اسلام آباد میں دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’رمضان کے مبارک مہینے اور ایسے وقت میں دہشت گردی کی یہ کارروائیاں خاص طور پر قابل افسوس ہیں جب افغانستان کرونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے کوشاں ہے۔‘‘بیان میں زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی گئی ہے۔