.

دنیا ایران کی جوہری دھمکیوں پرتوجہ مرکوز کرے،اسلحہ پر پابندی میں توسیع کی جائے:سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے عالمی برادری پر زوردیا ہے کہ وہ ایران کی جوہری دھمکیوں پر توجہ مرکوز کرے،اس کے خلاف پختہ مؤقف اختیار کرے اور اس پر عاید اسلحہ کی پابندی میں توسیع کی جائے۔

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق سعودی وزارتی کونسل نے اپنے ورچوئل اجلاس میں عالمی برادری پر زوردیا ہے کہ ’’وہ ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائلوں کے پروگراموں سے سنجیدگی سے نمٹے۔‘‘

کابینہ نے سعودی عرب کے علاقائی استحکام کے لیے عزم کا اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنی سرحدوں پر کسی قسم کی جارحیت،قومی سلامتی کو درپیش خطرات ، آبی گذرگاہوں کے تحفظ اورعالمی اقتصادی سرگرمیوں کو ایران کے مخالفانہ اقدامات سے درپیش خطرات سے کوئی رعایت نہیں برتے گا۔

سعودی کابینہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے ایران کی حمایت یافتہ یمن کی حوثی ملیشیا کے مملکت پر حملوں کی مذمت کا خیرمقدم کیا ہے۔ سعودی وزراء نے یمن میں قیام امن کے لیے الریاض سمجھوتے پر فوری عمل درآمد پر زوردیا ہے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جون کے آخر میں جاری کردہ ایک رپورٹ میں سعودی عرب کے اس دیرینہ دعوے کی توثیق کی تھی کہ گذشتہ سال سعودی تنصیبات پر حملوں کے لیے حوثی ملیشیا نے ایران کے مہیا کردہ ہتھیاراستعمال کیے تھے۔ایران نے حوثی ملیشیا کو یہ ہتھیار اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مہیا کیے تھے۔

اس رپورٹ سے امریکا کے اس دیرینہ مؤقف کو بھی تقویت ملی ہے کہ ایران پر اسلحہ کی پابندی میں توسیع ناگزیر ہے۔اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس کی تحریر کردہ ہے۔اس میں سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر2231 پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا ہے۔اس قرارداد کے ذریعے ایران کے چھے عالمی طاقتوں کے ساتھ 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کی توثیق کی گئی تھی۔

سعودی عرب نے اس رپورٹ کا خیرمقدم کیا تھا۔ اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب عبداللہ المعلمی نے العربیہ سے انٹرویو میں کہا کہ ’’ان کا ملک ہمیشہ سے ایران سے اسلحے کے سمجھوتے کے سکیورٹی مضمرات کے بارے میں خبردار کرتا رہا ہے۔ان میں ایران کے علاقائی توسیع پسندانہ عزائم اور خطے کی ریاستوں کی سلامتی سے متعلق تشویش کو نظرانداز کیا گیا ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ اب عالمی برادری بھی سعودی عرب کی تشویش کو سمجھ رہی ہے۔اس میں شاید کچھ وقت لگے گا لیکن ایسا تاخیر سے ہونا اور کبھی کچھ نہ ہونے سے بہتر ہے۔