.

تیل پیداوار میں کٹوتی کے فیصلے پرعمل درآمد کوئی ’’خیراتی کام‘‘ نہیں: سعودی وزیر توانائی

اوپیک پلس اختتامِ سال تک تیل کی پیداوار میں کٹوتی جاری رکھیں گے،ہر رکن ملک کے مفادات کا تحفظ کررہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا ہے کہ اوپیک پلس ممالک اختتام سال سے قبل تیل کی پیداوار میں کٹوتی جاری رکھیں گے اور تمام اضافی پیداوار کا ازالہ کریں گے۔

انھوں نے کہا ہے کہ تیل کی پیداوار میں کٹوتی کے فیصلے پر ’’مکمل عمل درآمد کوئی خیراتی کام نہیں۔یہ اس گروپ میں شامل ہر رکن ملک کے مفادات اور حاصلات کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کے لیے ہماری اجتماعی کاوش کا حصہ ہے۔‘‘

وہ جمعرات کے روز اوپیک پلس کے ٹیکنیکل پینل (مشترکہ وزارتی کمیٹی) کے افتتاحی اجلاس میں گفتگو کررہے تھے۔ یاد رہے کہ تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک اور روس کی قیادت میں غیراوپیک ممالک (اوپیک پلس) جنوری 2017ء سے عالمی مارکیٹ میں استحکام کے لیے تیل کی پیداوار میں کمی کررہے ہیں۔ان ممالک نے اپریل میں یکم مئی سے جولائی تک تیل کی یومیہ پیداوار میں 97 لاکھ بیرل تک کمی پر اتفاق کیا تھا۔

سعودی وزیر کا کہنا ہے کہ تیل کی پیداوار میں کٹوتی کوئی خیراتی کام نہیں۔انھوں نے اوپیک پلس کے رکن ممالک پر زوردیا ہے کہ وہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے رجحان کے پیش نظر پیداوار میں کٹوتی کے لیے اپنی اپنی ذمے داریاں پوری کریں۔

اس گروپ نے ایک رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ بعض ممالک میں کووِڈ-19 کے یومیہ کیسوں کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر توانائی کی مانگ میں کمی واقع ہوسکتی ہیں حالانکہ مارکیٹ کے اشاریے یہ ظاہر کررہے تھے کہ تیل کے ذخائر میں کمی واقع ہوئی ہے۔

اوپیک پلس گروپ اب عراق ، نائیجیریا اور متحدہ عرب امارات ایسے ممالک پر زوردے رہا ہے کہ وہ اضافی پیداوار کے ازالے کے طور پر اپنی پیداوار میں مزید کٹوتی کریں اور ستمبر میں اپنے کوٹے سے کم تیل نکالیں۔

ٹیکنیکل پینل کی رپورٹ کے مطابق اس کو زاید المقدار پیداوار میں مجموعی اضافے پر تشویش لاحق ہے ۔یہ مئی سے اگست تک کے عرصے میں 23 لاکھ 80 ہزار بیرل یومیہ ہوچکی تھی۔

شہزادہ عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ تیل کی پیداوار میں کٹوتی کے دورانیے کو 2020ء کے اختتام تک بڑھایا جاسکتا ہے۔واضح رہے کہ انھوں نے جولائی میں العربیہ سے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ تیل کی عالمی مارکیٹ کرونا وائرس کی وَبا کے اثرات سے ابھی تک مکمل طور نہیں نکل سکی ہے اور تیل کی عالمی مارکیٹ کی بحالی میں ابھی بہت وقت لگ سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’عالمی سطح پر تیل کی پیداوار میں کٹوتی کے سمجھوتے میں مزید دوسال سے زیادہ عرصے تک توسیع کی جا سکتی ہے۔‘‘

اوپیک پلس کی مذکورہ ڈیل سے قبل میکسیکو سے یومیہ پیداوار میں چار لاکھ بیرل کمی کا تقاضا کیا گیا تھا لیکن وہ صرف ایک لاکھ بیرل یومیہ کٹوتی پر آمادہ ہوا تھا۔

دنیا بھر میں کرونا وائرس کی وَبا پھیلنے کے بعد سے تیل کی مانگ میں ایک تہائی کمی واقع ہوئی ہے۔اس کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں اس کی قیمتیں بھی گر چکی ہیں اور تیل برآمد کرنے والے ممالک کی آمدن سکڑ کررہ گئی ہے۔

کرونا کے اس بحران سے امریکا کی تیل کی صنعت بُری طرح متاثر ہوئی ہے کیونکہ اس کی تیل کمپنیوں کی پیداواری لاگت دوسرے ممالک کی کمپنیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ امریکی کمپنیاں عالمی مارکیٹ میں تیل کی فی بیرل قیمت 43 سے 55 ڈالر کے درمیان برقرار رکھنے پر زور دیتی رہی ہیں۔ان کے مقابلے میں سعودی آرامکو کی پیداواری لاگت کہیں کم ہے اور اس کی فی بیرل پیداواری لاگت تین ڈالر کے لگ بھگ ہے۔اس لیے عالمی مارکیٹ میں تیل کی فروخت پراس کے منافع کی شرح دوسری کمپنیوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں