.

سعودی آرٹسٹ نے شہروں، شاہرائوں اور پارکوں کے شاہکار فن پارے کیسے تیار کیے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں فائن آرٹ کے ایک ماہر آرٹسٹ نے مملکت کے شہروں میں سڑکوں کے اہم اور خوبصورت مناظر کو آرٹ کے فن پاروں میں تبدیل کر کے سعودی عرب میں آرٹ کو امر کر دیا ہے۔ اس نے سعودی کی شاہرائوں، شہروں، میدانوں، باغات اور پبلک پارکوں کے عربی حروف میں 73 بیش قیمت فن پارے تیار کر کے سعودی عرب میں خود کو جمالیاتی حسن اور فن کا سفیر ثابت کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے نبیل نجدی نے بتایا کہ وہ 40 سال سے فن پاروں کی تیاری کے آرٹ سے وابستہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آرٹ کا شوق اس کا بچپن کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ آغاز میں اس نے لکڑی اوردیگر اشیا پر کندہ کاری سے اپنے فنی تجربات شروع کیے مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس کی مہارت بڑھتی گئی اور اس کے فن کا دائرہ مزید وسعت اختیار کرگیا۔

فائن آرٹ کے ماہر نبیل نجدی نے کہا کہ آرٹ کو متنوع شوقوں پرمشتمل ہونا چاہیے۔ اُنہوں نے زور دے کر کہا کہ آرٹسٹ کو خام مال کے استعمال کے ساتھ ساتھ ویلڈنگ مشینوں اور آکسیجن ٹیوبو، ڈرائنگ اور سینڈنگ کے کاموں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک ورک ٹیم کی ضرورت ہے۔ آج کے دور میں لیزر ٹیکنالوجی بھی آرٹ کے شاہکار تیارکرنے میں معاون ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آرٹ کی ہر قسم کا طریقہ کار دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ میں نے آرٹ 1440 میں اسٹین اسٹیل ماڈل کا سب سے بڑا کام کیا جس کی قد 4 میٹر ہے۔ میں اس طرح‌ کے آرٹ کے نموں کو آسانی، خوبصورتی اور زیادہ توجہ سے تیار کرتا ہوں۔ ایسے ماڈل تانبے سے تیار کیے جاتے ہیں۔ اس نوعیت کا آخری ماڈل چراغ کی ایک ٹوکری ہے۔ میں نے یہ ماڈل اسلامی سال کے موجودہ مہینے میں تیار کیا۔

سعودی آرٹسٹ کا کہنا تھا کہ میری خواہش ہے کہ سعودی عرب کے فن کار اور آرٹسٹ پوری دنیا میں اپنے ملک کا نام روشن کریں۔ مملکت کی فلسطینی وزارت ثقافت آرٹسٹون کی حوصلہ افزائی کررہی ہے جس کے نتیجے میں مملکت میں آرٹ پھل پھول رہا ہے۔