.

ایران کااقوام متحدہ کی اسلحہ تجارت پرعاید پابندی کے خاتمے پرمیزائل دفاعی نظام کا تجربہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے بدھ کے روز فوجی مشقوں کے دوران میں ملکی ساختہ فضائی دفاعی نظام کا تجربہ کیا ہے۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کی ویب سائٹ اریب نیوز کی اطلاع کے مطابق ’’آسمان کے مدافعین‘‘ کے نام سے یہ تجربہ ملک کی نصف فضائی حدود کے برابر علاقے میں کیا گیا ہے۔

اس نے یہ اطلاع دی ہے کہ ’’ان مشقوں سے آرمی اور پاسداران انقلاب کے جدید نظاموں نے اپنی مضبوطی اور طاقت ظاہر کردی ہے۔اس تجربے میں ایران کے لڑاکا جیٹ نے حصہ لیا ہے اور ایران کے خورداد3 اور خورداد 15 نظاموں نے درمیانی اور انتہائی بلندی سے اپنے اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔‘‘

فوجی مشقوں کے نگران کمانڈر جنرل قادر رحیم زادہ نے سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہماری مسلح افواج نے تمام طے شدہ اہداف حاصل کر لیے ہیں۔‘‘

ایران نے اپنے اس فضائی دفاعی نظام کا تجربہ اقوام متحدہ کی اسلحہ کی خریدوفرخت پر عاید پابندی کے خاتمے کے بعد کیا ہے۔اس نے گذشتہ اتوار کو یہ اعلان کیا تھا کہ جولائی 2015ء میں چھے عالمی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ جوہری سمجھوتے کی شرائط اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2231 کے تحت اسلحہ کی تجارت پر عاید بین الاقوامی پابندیوں کا خاتمہ ہوگیا ہے۔

اس نے سوموار کو کہا تھا کہ وہ دوسرے ممالک سے اسلحہ خرید کرنے کے بجائے فروخت کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔تاہم ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے منگل کو ایک بیان میں واضح کیا تھا کہ ان کا ملک خطے میں اسلحہ کی دوڑ میں شریک نہیں ہونا چاہتا ہے۔

اقوام متحدہ کی روایتی اسلحہ کی تجارت پابندی کے خاتمے کے بعد اب ایران ٹینکوں ،بکتر بند گاڑیوں ، لڑاکا طیاروں ،ہیلی کاپٹروں اور بھاری توپ خانے سمیت فوجی آلات اور ہتھیاروں کی خرید وفروخت کرسکتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی 2018ء میں ایران کے ساتھ طے شدہ جوہری سمجھوتے سے یک طرفہ طور پر دستبردار ہونے اعلان کردیا تھا۔اس کے بعد انھوں نے بتدریج ایران کے خلاف سخت پابندیاں عاید کی ہیں اور ان کے نفاذ کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جوہری سمجھوتا ایران کو ایٹم بم کی تیاری سے روکنے میں کوئی مناسب ضمانت دینے میں ناکام رہا ہے جبکہ ایران ہمیشہ سے اس دعوے کی تردید کرتا چلا آرہا ہے کہ وہ جوہری بم تیار کرنا چاہتا ہے بلکہ اس کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔