فرانسیسی مسلمان ہماری جمہوریہ، معاشرے اور ہماری تاریخ کا حصہ ہیں: پیرس
فرانسیسی وزارتِ خارجہ نے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے بعد مسلم دنیا کی طرف سے کی جانے والی تنقید پر کہا ہے کہ پیرس کو مسلمانوں سے کوئی دشمنی اور نفرت نہیں۔ فرانس کے مسلمان ہماری جمہوریہ کے معاشرے اور تاریخ کا حصہ ہیں۔
وزارت خارجہ نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ فرانس کے مسلمانوں کے تعاون سے انتہا پسندی کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔
وزارت خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دُنیا بھر میں ہمارا سفارتی نیٹ ورک اپنے موقف کی وضاحت اور بیرون ملک اپنے شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔
فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں نے ٹویٹر پر لکھا کہ ہم کبھی بھی کسی طبقے کے خلاف نفرت پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم حقیقی امن کی روح کے مطابق میں تمام اختلافات کا احترام کرتے ہیں۔ نفرت انگیز تقاریر کو قبول نہیں کرتے اور نہ ہی عقلی بحث کا دفاع کرتے ہیں۔
خیال رہے کہ حال ہی میں فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور پیغمبر اسلام کی شان میںگستاخی کے اشتعال انگیز واقعات کے بارے میں صدر عمانویل کا ایک متنازع بیان سامنے آیا تھا جس کے بعد پوری مسلم دنیا میں ان کے خلاف شدید ردعمل پیدا ہوگیا تھا۔
ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے فرانسیسی صدر کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کے دماغی معائنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔
-
فرانس : لیون کا ریلوے اسٹیشن بم کی دھمکی کے بعد خالی کرا لیا گیا، مشتبہ شخص گرفتار
فرانس کے تیسرے بڑے شہر لیون میں واقع ایک ریلوے اسٹیشن کو بم کی دھمکی کے بعد خالی ...
بين الاقوامى -
فرانس: ٹیچر کا سر قلم کرنے کے جرم میں ملوث مراکشی نژاد مبلغ کے بارے میں تفصیلات
فرانس میں آج بدھ کے روز سات افراد کو انسداد دہشت گردی کے امور سے متعلق تحقیقات ...
بين الاقوامى -
مذہب کی تضحیک سے نفرت پروان چڑھتی ہے: شیخ الازھر
فرانس میں استاد کا سر قلم کئے جانے کی مذمت
بين الاقوامى