.

نائجیریا:مقامی مسلح افراد کی ڈاکوؤں سے لڑائی کے بعد 113 طلبہ کی رہائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نائجیریا کی شمالی ریاست کاتسینا میں مقامی رضاکار پہرے داروں نے ڈاکوؤں سے لڑائی کے بعد دینی مدارس کے 110 سے زیادہ طلبہ کو رہا کرا لیا ہے۔

ریاست کاتسینا میں پولیس کے ترجمان گامبوعیسیٰ نے اتوار کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ ہفتے کے روز مسلح افراد نے قریباً 80 بچوں کو اغوا کر لیا تھا۔اس وقت وہ ایک مذہبی تقریب میں شرکت کے بعد ریاست میں واقع گاؤں مہوٹا میں لوٹ رہے تھے۔

اس واقعے سے دو روز پہلے اسی علاقے میں ڈاکوؤں نے ایک اقامتی اسکول کے 344 طلبہ کو اغوا کرلیا تھا اور انھیں چھے روز تک یرغمال بنائے رکھا تھا۔

مقامی افراد کے مطابق گذشتہ روز کے حملے کے بعد 113 بچّوں کو بازیاب کرا لیا گیا ہے۔مقامی پہرے دار گروپ کے ایک لیڈر عبدالالہٰی سدا نے بتایا ہے کہ جب بچوں کے اغوا کی خبرگاؤں میں پھیلی تو تمام رضاکار پہرے دار اور مکین اکٹھے ہوگئے تھے۔ انھوں نے اغوا کار مسلح ڈاکوؤں کا پیچھا کیا اور پھر ان کا محاصرہ کر لیا تھا۔ان ڈاکوؤں کا تعلق فولانی نسل کے چرواہوں سے تھا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ’’ہم نے جہاں بچّوں کو یرغمال رکھا گیا تھا،اس جگہ کے علاوہ فولانیوں کی بستیوں کا بھی محاصرہ کر لیا تھا اور انھیں خبردار کیا تھا کہ اگر بچّوں کو کچھ ہوا تو اس کے انتقام میں کسی ایک فولانی کو بھی زندہ نہیں چھوڑا جائے گا۔‘‘

اس دھمکی کے بعد انھوں نے آج علی الصباح 3۰00 بجے 60 بچوں کو چھوڑ دیا تھا۔پھر اس کے بعد چند گھنٹے کے بعد انھوں نے فون کر کے بتایا کہ مزید 53 بچّوں کو بھی چھوڑدیا گیا ہے اور وہ جنگل کے راستے سے واپس جارہے ہیں۔

گاؤں کے مدرسے کے ایک استاد نے بتایا ہے کہ یہ تمام بچے اپنے اساتذہ کے ساتھ سفر کررہے تھے اور ایک مذہبی تقریب سے واپسی پر انھیں مسلح ڈاکو یرغمال بنا کر اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

اس سال اپریل میں ضلع ڈانڈوم میں واقع گاؤں کاسیڈو اور اس کے نواح میں واقع دیہات پر موٹر سائیکل سوار مسلح ڈاکوؤں نے دھاوا بول دیا تھا اور اندھادھند فائرنگ کرکے 47 دیہاتیوں کو ہلاک کردیا تھا۔اس واقعے کے بعد مقامی لوگوں نے ڈاکوؤں سے تحفظ کے لیے مقامی پہرے دار فورس تشکیل دی تھی۔ان ہی رضاکار پہرے داروں نے اب ڈاکوؤں کامقابلہ کیا ہے۔اس سے پہلے بھی ان کے درمیان مسلح جھڑپوں میں متعدد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

واضح رہے کہ نائجیریا کے شمال مغربی علاقوں میں لاقانونیت کا دور دورہ ہے اور وہاں جرائم پیشہ گروہ دندناتے پھرتے ہیں۔وہ دیہات میں چھاپا مار کارروائیاں کرتے ہیں،مویشیوں کو چُرا لے جاتے ہیں، لوگوں بالخصوص طلبہ اور طالبات کو تاوان کے لیے اغوا کر لیتے ہیں اور مکانوں کو لوٹنے کے بعد نذر آتش کردیتے ہیں۔

مسلح گروہوں نے اس علاقے میں بڑی شاہراہوں پر چیک پوائنٹس بھی قائم کر رکھے ہیں۔ وہ وہاں سفر کرنےوالوں کو تاوان کے لیے اغوا کر لیتے ہیں،اگر انھیں تاوان کی رقم نہ ملے تو یرغمالیوں کو قتل کردیتے ہیں۔اس علاقے میں سخت گیر انتہاپسند گروپ بوکو حرام کے جنگجو بھی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔