.

سعودی آرامکو کی تنصیبات پر حملوں کے لیے ایران نے اپنے ساختہ ہتھیار مہیّا کیے:عرب اتحاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ ایران نے یمنی حوثیوں کو سعودی عرب میں آرامکو کی تنصیبات پر حملوں کے لیے ہتھیار مہیا کیے ہیں اور یہ تمام ہتھیار ایرانی ساختہ ہی تھے۔

انھوں نے سوموار کے روز العربیہ سے خصوصی گفتگو میں کہا ہے کہ’’حوثیوں کا سعودی آرامکو کی تنصیبات پر حملہ دہشت گردی کا فعل تھا۔یہ خطے میں مخالف ممالک کی مدد سے کیا گیا تھا‘‘۔ان کا اشارہ ایران کی جانب تھا۔

ایران یمن میں 2014ء سے جاری جنگ میں حوثی شیعہ باغیوں کو ہر طرح کی امداد مہیا کررہاہے اور اس گروپ کو بیلسٹک میزائل ، ڈرونز اور دوسرا اسلحہ مہیا کررہا ہے۔حوثی جنگجو اسی اسلحہ سے یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے خلاف لڑرہے ہیں اور سعودی عرب کے شہروں اور اہم تنصیبات کی جانب بیلسٹک میزائل داغ رہے ہیں یا بارود سے لدے ڈرونز سے حملے کررہے ہیں۔

کرنل ترکی المالکی نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’حوثی ملیشیا کے جنگجو بیلسٹک میزائل اور مختلف قسم کا اسلحہ چلا رہے ہیں اور وہ بین الاقوامی قانون کا احترام نہیں کرتے ہیں۔‘‘

حوثیوں نے اتوار کو سعودی عرب کی تیل برآمدات کی بندرگاہ راس تنورہ پر ڈرون سے حملہ کیا تھا اورمملکت کے مشرق میں واقع شہر ظہران میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کوبیلسٹک میزائل کے حملے میں نشانہ بنایا تھا۔

سعودی عرب کے ایک سرکاری بیان کے مطابق راس تنورہ کی بندرگاہ پر پیٹرولیم کے ایک ٹینک پر سمندر سے ڈرون حملہ کیا گیا تھا اور ظہران میں سعودی آرامکو کے اقامتی علاقے میں بیلسٹک میزائل کے ٹکڑے گرے تھے۔حکام کے مطابق ان دونوں حملوں میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں۔

کرنل ترکی المالکی کا کہنا تھا کہ ’’عرب اتحاد سعودی عرب کی اقتصادی تنصیبات کے تحفظ کی صلاحیت کا حامل ہے۔سعودی مسلح افواج نے کامیابی سے بارود سے لدے ڈرونز مارگرائے ہیں۔سعودی عرب فضائی اور میزائل خطرات کا سراغ لگانے اور انھیں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘‘

انھوں نے ایک مرتبہ پھر یہ نشان دہی کی ہے کہ ’’دنیا میں کسی اور ملک پر اس طرح ڈرون حملے نہیں کیے جارہے ہیں جس طرح سعودی عرب ان تخریبی حملوں کا سامنا کررہا ہے اور ان ڈرونز کو فضا ہی میں ناکارہ بنا رہا ہے۔‘‘

انھوں نے واضح کیا کہ ’’ سعودی عرب کے پاس کسی بھی خطرے کے مقابلے کے لیے سدجارحیت کی بھرپور قوت موجود ہے۔خواہ اس جارحیت کا منبع کوئی بھی ہو۔‘‘

واضح رہے کہ ظہران سعودی عرب کے مشرقی صوبہ میں واقع ہے اور سعودی آرامکو کی تیل پیداوار اوربرآمدات کی بیشتر تنصیبات اسی ضلع میں ہیں۔راس تنورہ سعودی آرامکو کے آئیل آپریشنز کا بڑا مرکز ہے۔