پوتین کو 'قاتل' قرار دینے کے بعد روسی سفیر واشنگٹن سے واپس روانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے روسی صدر ولادی میر پوتین 'قاتل' قرار دینے اور ماسکو پر امریکی انتخابات میں مداخلت کے الزام اور اس کی قیمت چکانے کی دھمکیوں کے بعد امریکا میں متعین روسی سفیر وطن واپس رونہ ہوگئے ہیں۔

پچھلے دو دن کے دوران ماسکو اور واشنگٹن کے مابین الزامات کے تبادلے کی شدت میں اضافہ ہوا جبکہ روسی صدر نے بائیڈن کے الزام کے رد عمل میں کہا ہے کہ اس بات پر زور دیا کہ لوگ عام طور پر دوسروں کو خود دیکھتے ہی دیکھتے ہیں۔

پروگرام اینکر کے سوال کیا وہ روسی صدر کو ’’قاتل‘‘ سمجھتے ہیں، جو بائیڈن نے جواب دیا ’’جی ہاں! میرا بھی یہی خیال ہے۔‘‘ اس پر روسی پارلیمنٹ ڈوما کے سربراہ نے فوری ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’’پوتین پر حملے کا مطلب روس پر حملہ ہے۔‘‘

جو بائیڈن نے کہا کہ ولادی میر پوتین ڈونلڈ ٹرمپ کو فائدہ پہنچانے کی خاطر امریکی انتخابات پر اثر انداز ہونے والی کوششوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ یہ جلد ہی ہو گا۔

بدھ کے روز ’’اے بی سی‘‘ نیوز ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والی انٹرویو میں جو بائیڈن نے کہا کہ وہ [پوتین] ’’جلد اس کی قیمت ادا کریں گے‘‘خمیازہ سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے بائیڈن کا کہنا تھا کہ ’’وہ جلد ہی خمیازہ دیکھ لیں گے۔‘‘

روسی صدر کے مقرب خاص اور ڈوما کے چیئرمین ویاچیسلیو ویلوڈن نے ’’ٹیلی گرام‘‘ نامی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر امریکی صدر کے تبصرے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ ہسٹریائی کیفیت جواب نہ بن پڑنے کا نتیجہ ہے۔ پوتین ہمارے صدر ہیں اور ان کی ذات پر کیا جانے والا کوئی بھی حملہ ہمارے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

اس پر روسی صدر نے جوبائیڈن کو کہا کہ جیسے وہ خود ہیں دوسروں کو بھی ایسا ہی سمجھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں