.

خلیج سے سرمایہ کاری کاحصول؛اسرائیل ابوظبی میں اقتصادی اتاشی کادفترکھولےگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل خلیجی ریاستوں سے سرمایہ کاری کے حصول اور عرب دنیا سے معاشی تعلقات کے فروغ کے لیے ابوظبی میں اقتصادی اتاشی کا دفتر کھولے گا۔

اسرائیل کی وزارت برائے اقتصادی امور نے منگل کے روز ابوظبی میں اقتصادی اتاشی کا دفتر کھولنے اور اویاد تامیرکواقتصادی اتاشی مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

وزیراقتصادیات عامرپیریز نے کہا ہے کہ اسرائیل اور امارات کے درمیان اقتصادی تعاون کے فروغ کے بہت زیادہ مواقع موجود ہیں۔انھوں نے کہا کہ ’’اماراتی دارالحکومت میں اقتصادی اتاشی کا دفتر کھلنے سے دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے زیرغورمختلف منصوبوں پر عمل درآمد میں مدد ملے گی۔‘‘

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان امریکا کی ثالثی میں گذشتہ سال ستمبر میں امن معاہدہ طے پایاتھا اور دونوں ملکوں نے معمول کے سفارتی اور کاروباری تعلقات استوار کیے تھے۔اس کے بعد سے دونوں ملکوں میں دوطرفہ اقتصادی تعلقات اور روابط کے فروغ کے لیے متعدد سمجھوتے طے پاچکے ہیں۔

متحدہ عرب امارات نے سوموار کے روزحالیہ غزہ جنگ کے بعد تل ابیب میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا ہے۔دریں اثناء اسرائیل کی وزارت خزانہ نے اطلاع دی ہے کہ صہیونی ریاست کا یواے ای کے ساتھ ٹیکسوں کی چھوٹ سے متعلق ایک سمجھوتا طے پاگیا ہے۔اس سے دونوں ملکوں میں کاروباری روابط کو فروغ ملے گا۔

واضح رہے کہ اسرائیل کی وزارت برائے اقتصادی امور کے تحت انتظامیہ برائے خارجہ تجارت (ایف ٹی اے) کے زیرانتظام دنیا بھر میں 50سے زیادہ کاروباری مراکز کام کرتے ہیں۔اس نے گذشتہ سال فلپائنی دارالحکومت منیلا میں بھی اپنی ایک شاخ کھولی تھی۔

ایف ٹی اے نے گذشتہ سال کہا تھا کہ اسرائیل اور یواے ای کے درمیان شہری ہوابازی ،تیل کی تجارت ، توانائی ، ہیروں کی برآمد،پانی کی ٹیکنالوجیز، میڈیکل آلات کی برآمدات اور مالیاتی اور سائبر سکیورٹی کی ٹیکنالوجیز کی برآمدات کے بہت زیادہ مواقع موجود ہیں۔اسرائیل یو اے ای سے تیل خرید کرنا چاہتا ہے اور اس کو مختلف ٹیکنالوجیز فروخت کرنا چاہتا ہے۔