.

حماس نے جنرل ورکس کے فلسطینی وزیر کو زیرِ حراست رکھ کر کام کرنے سے روک دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی وزیر اعظم محمد اشتیہ نے غزہ کی پٹی میں بیت حانون کی گزر گاہ پر حماس کی جانب سے جنرل ورکس اور ہاؤسنگ کے وزیر محمد زیارہ کو تین گھنٹے تک روکے رکھنے کی مذمت کی ہے۔ یہ واقعہ جمعرات کی دوپہر فلسطینی وزیر کے غزہ کی پٹی کا رخ کرنے پر پیش آیا۔ محمد زیارہ کو وساطت کاروں کی مداخلت پر داخلے کی اجازت دے دی گئی۔

جمعرات کی شام اپنے بیان میں فلسطینی وزیر اعظم نے حماس کے اس اقدام پر اپنی شدید پاپسندیدگی کا اظہار کیا۔ فسلطینی اتھارٹی کے وزیر حکومت کی جانب سے تشکیل کردہ ٹیم کے ساتھ غزہ پٹی کے دورے پر ہیں۔ اس ٹیم کا مشن اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا شمار کرنا اور ان فلسطینی گھرانوں کو ٹھکانا فراہم کرنے پر کام کرنا ہے جو اسرائیلی حملوں کے سبب اپنی رہائش گاہوں سے محروم ہو گئے۔

وزیر اعظم محمد اشتیہ کے مطابق اس طرح کے اقدامات قومی یک جہتی کی فضاؤں کو پراگندہ کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے حماس سے مطالبہ کیا کہ آئندہ اس طرح کا واقعہ دہرانے سے گریز کرے اور غزہ کی پٹی میں مسائل کو کم کرنے کے لیے جاری پروگراموں کی نگرانی کے حوالے سے فلسطینی حکومت کے تمام وزراء کے کام کو آسان بنائے۔

ادھر جنرل ورکس اور ہاؤسنگ کے فلسطینی وزیر محمد زیارہ نے حماس کے ادارے کی جانب سے انہیں 3 گھنٹے حراست میں رکھنے کی مذمت کی ہے۔ وزیر کے مطابق حماس کا کہنا تھا کہ انہیں غزہ کی پٹی میں کام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

جمعرات کی شام "صوت فلسطین" ریڈیو سے گفتگو میں زیارہ نے بتایا کہ اس طرح کی حرکت ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس تنظیم اس طرح کی کوششوں سے غزہ پٹی میں قومی اتھارٹی اور فلسطینی حکومت کی کسی بھی نمائندگی کو روکنا چاہتی ہے، گویا کہ اس بات پر تنازع ہے کہ غزہ کی پٹی میں تعمیر نو کے کام کی قیادت کون کرے گا۔