.

اسرائیلی وزیر اعظم کی یہودیوں کے حرم قدسی کے باقاعدگی سے دوروں کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ وزیر اعظم نے حرمِ قدسی کے حوالے سے موقف کا جائزہ لینے کے واسطے ایک اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں بینیٹ نے ہدایت کی ہے کہ حرم قدسی کے لیے یہودیوں کے دورے کا سلسلہ "منظم اور محفوظ" طور سے جاری رکھا جائے۔

ترجمان اوفر جینڈلمین نے اپنے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر مزید بتایا کہ مذکورہ اجلاس میں داخلہ سیکورٹی کے وزیر اور پولیس کے ہائی کمشنر نے بھی شرکت کی۔

دوسری جانب فلسطین کی وزارت خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کے خلاف جاری اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ بند کرانے کے لیے ٹھوس موقف اختیار کرے۔

فلسطینی سرکاری خبر رساں ایجنسی (وفا) کے مطابق وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ آج صبح مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں بعض شدت پسند یہودیوں کے "دھاوے" کی پر زور مذمت کرتی ہے۔ ساتھ ہی بیت المقدس بالخصوص مسجد اقصیٰ کو مسلسل نشانہ بنانے کی مکمل ذمے داری اسرائیلی حکومت پر عائد کرتی ہے۔

یہودی آباد کاروں نے دو روز قبل مسجد اقصیٰ کے صحنوں پر دھاوا بول دیا تھا۔ اس موقع پر قابض اسرائیلی پولیس کا شدید پہرہ لگا ہوا تھا۔ یہودی آباد کاروں نے صحن میں اشتعال انگیز مذہبی رسوم انجام دیں اور بعد ازاں وہاں سے کوچ کر گئے۔

آباد کاروں کی جانب سے آج اتوار کی صبح ایک بار پھر دھاوے کی دعوت دی گئی تھی۔