ایرانی سکیورٹی فورسز نے خوزستان میں احتجاجی مظاہرین پرفائرنگ کیوں کی؟

عرب اکثریتی صوبہ میں پانی کی کم یابی پراحتجاجی مظاہرے،حکومت پرآبی وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی فارس نے ملک کے جنوب مغربی صوبہ خوزستان میں پانی کی عدم دستیابی کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر سکیورٹی فورسز کی فائرنگ کا ایک نیا جواز پیش کیا ہے اور یہ اطلاع دی ہے کہ ان احتجاجی مظاہرین کو نشانہ بنانے نہیں بلکہ ان کے تحفظ کے لیے سکیورٹی فورسز نے فائرنگ کی ہے جبکہ ایرانی حکومت نے ان احتجاجی مظاہرین کو ایک شخص کی ہلاکت کا موردالزام ٹھہرایا ہے۔

خوزستان کے صوبائی دارالحکومت اہوازاور دوسرے شہروں میں 15 جولائی کوپانی کی قلت کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے اور گذشتہ پانچ روز سے رات کو حکومت مخالف احتجاجی ریلیاں نکالی جارہی ہیں۔

ان مظاہروں کی سوشل میڈیا پربعض ویڈیوزپوسٹ کی گئی ہیں۔ان میں مظاہرین کو عربی زبان میں نعرے بازی کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے۔ایران کے اس علاقہ میں عرب نسل کے افراد اکثریت میں آباد ہیں اور وہ ایک عرصہ سے ایرانی حکومت کےامتیازی سلوک کی شکایت کرتے چلے آرہے ہیں۔

بعض ویڈیوز میں فائرنگ کی آوازیں سنی جاسکتی ہیں اور ایک ویڈیومیں تو سکیورٹی فورسز کو مظاہرین کی جانب فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کے قریب سمجھی جانے والی خبررساں ایجنسی فارس نے منگل کے روز یہ اطلاع دی ہے کہ سکیورٹی فورسز نے خوزستان میں احتجاجی جلوسوں کے دوران میں مظاہرین اور لوگوں کے تحفظ کے لیے فائرنگ کی تھی۔

اس نے مزید کہا ہے کہ گذشتہ چند راتوں کے دوران میں دہشت گردوں اور تخریبی گروپوں نے مظاہروں کا رُخ کرلیا تھا۔احتجاجی کارکنان اور انسانی حقوق کے علمبردار گروپوں نے گذشتہ جمعرات سے سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے دوافراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور مہلوکین کے نام مصطفیٰ نعیموی اور قاسم خوزیری بتائے ہیں۔

تاہم ایرانی حکومت نے اب تک صرف ایک شخص نعیموی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اوراحتجاجی ’’بلوائیوں‘‘ ہی کو اس کی موت کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔واضح رہے کہ ایرانی حکومت احتجاجی مظاہرین کے لیے بلوائی یا فسادی کی اصطلاح استعمال کرتی ہے۔

سوشل میڈیا کے بعض صارفین کا کہنا ہے کہ خوزستان میں گذشتہ ہفتے سے انٹرنیٹ کی رفتار سست ہوچکی ہے۔ایرانی حکام قبل ازیں بھی احتجاجی مظاہروں والے علاقوں میں انٹرنیٹ کی رفتار کو کم کردیتے ہیں یا اس کو سرے سے بند ہی کردیتے ہیں۔

واضح رہے کہ عرب اکثریتی صوبہ خوزستان میں پانی کابحران شدت اختیار کرچکا ہے اور زرعی فصلوں اور گلہ بانی کے لیے بھی پانی دستیاب نہیں ہے۔اس صوبے کے مختلف شہروں میں گذشتہ ایک ماہ سے قلتِ آب کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

ایرانی حکام خشک سالی کو پانی کا قلت کا سبب قرار دیتے ہیں جبکہ مظاہرین حکومت کو اس کا موردالزام ٹھہراتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی امتیازی پالیسیوں کے نتیجے میں پانی کا بحران پیدا ہوا ہے کیونکہ اس نے خوزستان کے پانی کا رُخ فارسی نسل کی آبادی والے صوبوں کی جانب موڑدیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں