.
افغانستان وطالبان

امریکی فوج کا کابل میں داعش کے مبیّنہ خودکش بمباروں کی گاڑی پر ڈرون حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی فوج نے اتوار کے روز کابل میں ایک گاڑی پر ڈرون حملہ کیا ہے۔دو امریکی عہدے داروں نے اس حملے کی تصدیق کی ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ بغیرپائیلٹ طیارے سے کابل ائیرپورٹ کی طرف جانے والی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔اس میں داعش کے متعدد خودکش حملہ آور سوار تھے لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایا ہے کہ اس حملے میں کتنے داعشی جنگجو مارے گئے ہیں۔

امریکی فوج کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ اس ڈرون حملے کے نتیجے میں دھماکے ہوئے ہیں۔انھوں نے اس کو’’ثانوی نوعیت‘‘ کے دھماکے قراردیا ہے اورکہا ہے کہ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ گاڑی میں دھماکا خیزمواد کی کافی مقدار موجود تھی۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی اس ڈرون حملے کی تصدیق کی ہے۔البتہ ان کا کہنا کہ اس میں گاڑی میں سوار ایک خودکش بمبارکو نشانہ بنایا گیا ہے۔ وہ کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملہ کرنا چاہتا تھا۔

اس ڈرون حملے سے چندے قبل ہی کابل ہوائی اڈے کے نزدیک شمال مغرب میں واقع علاقہ میں ایک راکٹ گرا تھاجس کے دھماکے سے دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا تھا جب کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے امریکی فوجیوں کا انخلا جاری تھا۔فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا تھا کہ یہ ایک ہی واقعہ ہے یا دونوں الگ الگ واقعات ہیں لیکن مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس حملے میں ایک بچے سمیت ایک ہی خاندان کے دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔

اس ڈرون یا راکٹ حملے کے بعد ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا کے ذریعے منظرعام پر آئی ہے۔اس میں ایک گنجان آباد علاقے میں واقع مکان سے دھماکے کے بعد دھواں بلند ہوتے دیکھا جاسکتا ہے اور لوگوں کا شور سنائی دے رہا ہے۔