.

واشنگٹن پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات پر "جلد" نظرثانی کرے گا

کانگریس کے دھواں دار اجلاس میں بلینکن کا افغانستان سے انخلا کا دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن نے کہا ہے کہ "یہ طے کرنے کے لیے کہ واشنگٹن افغانستان کے مستقبل میں کیا کردار ادا کرنا چاہتا ہے، امریکہ آنے والے ہفتوں میں پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات پر غور کرے گا۔"

پیر کو امریکی حمایت یافتہ افغان حکومت کے گذشتہ ماہ کے خاتمے کے بعد کانگریس میں افغانستان کے بارے میں پہلی عوامی سماعت میں بلینکن نے ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کی کمیٹی کو بتایا کہ افغانستان کے حوالے سے پاکستان کے ’بہت زیادہ مفادات ہیں جن میں سے کچھ ہمارے مفادات سے متصادم ہیں۔‘

امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’یہ وہ ملک ہے جو افغانستان کے مستقبل کے بارے میں مسلسل اپنے داؤ بدلنے میں ملوث رہا، یہ وہ ملک ہے جو طالبان کے ارکان کو پناہ دینے میں ملوث رہا، یہ وہ ملک ہے جو ہمارے ساتھ انسداد دہشت گردی کے مخلتف نکات پر تعاون کرتا رہا۔‘

امریکی قانون سازوں نے وزیر خارجہ سے پوچھا کہ کیا اب وقت آ گیا ہے کہ واشنگٹن پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کا ازسرنو جائزہ لے، امن ہوا تو سی پیک کے رابطہ کاری منصوبوں کو افغانستان تک پھیلائیں گے.

درایں اثنا امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن نے گذشتہ ماہ سرانجام دیے گئے افغانستان سے فوجی انخلا کے کام کا ٹھوس انداز سے دفاع کیا، جس اقدام کے ذریعے دو عشروں سے جاری امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ کا خاتمہ عمل میں لایا گیا۔

کانگریس کی امور خارجہ کی کمیٹی کی سماعت کے دوران اپنے بیان میں بلینکن نے کہا کہ اگر صدر جو بائیڈن نے افغانستان میں مسلح افواج کو تعینات رکھنے کا فیصلہ کیا ہوتا تو ''خاص تعداد میں امریکی فوج کو افغانستان میں تعینات کرنا پڑتا، تاکہ اپنا دفاع کرنے کے ساتھ طالبان کی چڑھائی کو روکنے کا کام کیا جائے، جس کا مطلب مزید جانوں کا نقصان ہوتا، اور پھر تعطل کو توڑنے کی خاطر ہم ایک غیر معینہ مدت تک افغانستان کی لڑائی میں الجھے رہتے''

انھوں نے کہا کہ ''اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ اس سے بھی زیادہ عرصے تک افغانستان میں رہنے سے افغان سکیورٹی افواج یا افغان حکومت زیادہ مضبوط ہوتی یا اس قابل بنتی کہ اپنا دفاع خود کر سکے''۔

بقول ان کے، ''اگر 20 سال کے دوران، جس میں مالی اعانت، اسلحہ اور تربیت کا کام کیا گیا جس پر اربوں ڈالر کی لاگت آئی، اگر یہ سب کچھ کافی نہیں تھا؛ تو پھر مزید ایک سال، پانچ یا 10 برس تک رہنے سے کیا فرق پڑتا؟''

طالبان باغیوں نے اگست کے وسط میں ملک پر قبضہ کیا، جب صدر اشرف غنی سیاسی پناہ کے لیے متحدہ عرب امارات کے طرف بھاگ نکلے۔ امریکہ نے اگست کے اواخر تک کابل ایئرپورٹ سے 124،000 افراد کا انخلا مکمل کیا، جن میں زیادہ تر افغان تھےاور تقریباً 5500 امریکی تھے جب کہ تقریباً 100 امریکی پیچھے رہ گئے۔

اس کے بعد چند امریکیوں کو زمینی راستے سے یا چند ایک پروازوں کے ذریعے ملک سے باہر لایا گیا ہے، جس ضمن میں طالبان نے رضامندی دکھائی۔ بلینکن نے کہا کہ امریکی حکام بروقت یہ نہیں بھانپ سکے کہ افغان حکومت اتنی تیزی کے ساتھ گر سکتی ہے، جب طالبان ملک میں پیش قدمی کر رہے تھے۔

بلینکن کے بہ قول محتاط اندازوں کے مطابق بھی یہ پیش گوئی ممکن نہیں تھی کہ جب امریکی افواج ملک میں موجود ہو تو کابل میں حکومتی افواج مات کھا سکتی ہیں۔

امریکہ کے چوٹی کے سفارت کار نے کہا کہ حالانکہ انخلا کا اصل کام مکمل ہو چکا ہے، ''باقی ماندہ امریکی شہریوں، افغان باشندوں اور اتحادی ملکوں کے شہریوں اور پارٹنر ملکوں کے افراد کو ملک سے باہر لانے کا کام اب بھی جاری ہے، اُن حضرات کے لیے جو ملک سے باہر نکلنا چاہتے ہیں''۔

حزب مخالف کے ری پبلکن قانون ساز اور صدر جو بائیڈن کی ڈیموکریٹ پارٹی کے چند ساتھی، امریکی شہریوں اور ہزاروں افغان باشندوں کے انخلا کے معاملے پر انتظامیہ کے اقدامات پر تنقید کر رہے ہیں۔ یہ افغان باشندے لڑائی کے دوران بحیثیت مترجم اور مشیر امریکی افواج کے ساتھ کام کرتے رہے۔

تنقید میں خاص طور پر اس وقت اضافہ دیکھا گیا جب انخلا کے آخری دنوں کے دوران کابل ایئرپورٹ کے قریب ایک خودکش بم حملہ ہوا جس میں 13 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ داعش خراسان نے، جو مشرق وسطیٰ میں دہشت گردی میں ملوث دھڑے کا گروہ ہے، خودکش حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔

بلینکن نے آج پیر کے روز ایوانِ نمائندگان کی امور خارجہ کی کمیٹی کے سامنے بیان دیا جب کہ وہ منگل کو سینیٹ کی امور خارجہ کمیٹی کے روبرو پیش ہوں گے۔