.

دو سال میں پہلی بار امریکی اور روسی چیف آف اسٹاف کی ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا اور روس کے چیف آف اسٹاف نے بدھ کے روز فن لینڈ کے دارالحکومت ہیلسنکی میں ایک ایسے وقت میں ملاقات کی جب امریکا افغانستان کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ القاعدہ کو افغانستان میں دوبارہ سر اٹھانے سے روکا جاسکے۔

امریکی چیف آف اسٹاف کے ترجمان کرنل ڈیو بٹلر کے مطابق جنرل مارک ملی اوران کے روسی ہم منصب ویلری گیراسیموف کے درمیان یہ سنہ 2019ء کے بعد اپنی نوعیت کی یہ منفرد ملاقات ہے۔جس کا مقصد دونوں ممالک کی عسکری قیادت کے درمیان رابطے بہتر بنانا ، خطرات اور تنازعات کو کم کرنے کے لیے بات چیت جاری رکھنا ہے۔

امریکی صدر جوبائیڈن اور روس کے صدر ولادی میر پوتین
امریکی صدر جوبائیڈن اور روس کے صدر ولادی میر پوتین

بٹلر نے مذاکرات کے مندرجات کی وضاحت نہیں کی لیکن وہ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی فوج افغانستان کے پڑوسی ممالک میں اڈے قائم کرنا چاہتی ہے تاکہ وہ امریکی مفادات کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کے خوف سے افغانستان میں مسلح گروہوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھ سکے۔

افغانستان سے غیر ملکی افواج کے مکمل انخلا کے اعلان کے دوران امریکی صدر جو بائیڈن نے زور دیا تھا کہ واشنگٹن القاعدہ یا داعش کی واپسی سے بچنے کے لیےتمام وسائل استعمال کرے گا۔

امریکی صدر جوبائیڈن اور روس کے صدر ولادی میر پوتین
امریکی صدر جوبائیڈن اور روس کے صدر ولادی میر پوتین

وسطی ایشیا میں امریکی اڈے

امریکا نے 2000 کی دہائی کے اوائل میں افغانسان کے کئی پڑوسی ممالک خاص طورپر ازبکستان ، تاجکستان اور کرغیزستان میں فوجی اڈے قائم کر رکھے تھے۔ افغانستان کی سرحدیں وسطی ایشیا کے ان چھ ممالک کےساتھ ملتی ہیں اور امریکا نے ان ممالک کے اڈوں کو افغانستان میں اپنی عسکری کارروائیوں کے لیے استعمال کرنا تھا۔

ان وسطی ایشیائی ممالک میں روس کے فوجی اڈے بھی موجود ہیں جو ان ملکوں پر اپنی اجارہ داری سمجھتا ہے۔