.
ایران جوہری معاہدہ

امریکا ایران سے جوہری مذاکرات کی بحالی کے لیے’زیادہ فعال‘ کرداراداکرے :روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے امریکا پر زوردیا ہے کہ وہ 2015 ء میں ایران سے طے شدہ جوہری سمجھوتے کی بحالی کے لیے مزید فعال حکمتِ عملی اختیارکرے۔

اے ایف پی کے مطابق روسی وزیرخارجہ نے ہفتے کے روزاقوام متحدہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’’انھیں (امریکیوں کوسمجھوتے سے متعلق)تمام مسائل کو حل کرنے کے لیے زیادہ فعال ہونا چاہیے۔‘‘

ایران اور امریکا کے درمیان جوہری سمجھوتے کی بحالی کے لیے مذاکرات نئے ایرانی صدرابراہیم رئیسی کے اگست میں برسراقتدارآنے کے بعد سے تعطل کا شکار ہیں۔اس سے پہلے دونوں ملکوں نے اپریل سے جون تک ویانا میں بالواسطہ بات چیت کی تھی۔

ایران کے وزیرخارجہ حسین امیرعبداللہیان نے جمعہ کے روز ایک بیان میں کہا تھاکہ جوہری سمجھوتے کی بحالی سے متعلق مذاکرات’بہت جلد‘دوبارہ شروع ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ان مذاکرات سے دستبردار نہیں ہونا چاہتا ہے۔

مبصرین کاخیال ہے کہ ابراہیم رئیسی اپنی کابینہ میں سخت گیروں کو شامل کررہے ہیں تاکہ امریکا پرجوہری مذاکرات میں رعایت حاصل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاسکے۔نئے ایرانی وزیرخارجہ حسین امیرعبداللہیان ایک سینیرسفارت کارہیں مگروہ ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کے قریب سمجھتے جاتے ہیں۔

صدر ابراہیم رئیسی کی حکومت نے حال ہی میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے رشتہ دار سخت گیرسینئر سفارت کارعلی باقری کانی کو اعلیٰ جوہری مذاکرات کارمقررکیا ہے۔وہ عباس عراقچی کی جگہ لیں گے۔عراقچی سابق ایرانی صدر حسن روحانی کے دور میں چھے عالمی طاقتوں اور امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات کی قیادت کرتے رہے تھے۔

امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن نے رواں ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ ایران کی جوہری سمجھوتے میں واپسی کا وقت ہاتھ سے نکلا جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم بہت واضح ہیں کہ جوہری سمجھوتے میں دوبارہ شمولیت اورباہمی تعمیل کی طرف لوٹنے کی صلاحیت غیرمعینہ مدت کے لیے نہیں ہوگی۔

واضح رہے کہ امریکا کے سابق صدرڈونلڈ ٹرمپ 2018ء میں یک طرفہ طور پراس جوہری سمجھوتے سے دستبردار ہوگئے تھے۔ صدرجو بائیڈن اس سمجھوتے میں امریکا کی دوبارہ شمولیت چاہتے ہیں لیکن ایران جوہری بم کے لیے درکارمواد کی افزودگی میں اضافہ کررہا ہے اور وہ جون سے ملتوی شدہ مذاکرات کی بحالی میں بھی پس وپیش سے کام لے رہا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران سے جوہری سمجھوتے کی بحالی سے متعلق مذاکرات کے بارے میں ان کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جارہا ہے۔انھوں نےایران کو جوہری پروگرام میں مزید پیش رفت پرتنبیہ کی ہے اوراس بات پر زور دیا ہے کہ ایران کے پاس مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے مثبت اقدامات کرنے کا قلیل وقت رہ گیا ہے۔