.

ملک میں ’جمہوریت‘ کودرست راستے پرگامزن کرنے کے لیے گرفتاریاں کی گئی ہیں:سوڈانی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈانی فوج کے جنرل حنفی عبداللہ کا کہنا ہے کہ آج ہونے والی گرفتاریاں ملک میں جمہوریت کا راستہ درست کرنے کے لیے عمل میں آئیں۔ یہ بیان وزیراعظم عبداللہ حمدوک کی کابینہ میں شامل بعض وزرا اور ذمے داران کی گرفتاریوں کے بعد سامنے آیا ہے۔

العربیہ نیوز چینل کو دیے گئے انٹرویو میں حنفی نے باور کرایا کہ ایک سویلین حکومت تشکیل دی جائے گی جس میں آزاد اور شفاف اہلیت کے حامل افراد شامل ہوں گے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ فوج کے اقدامات اور گرفتاریوں میں اُن لوگوں کو نشانہ بنایا گیا جو آئینی دستاویز پر عمل درآمد میں رکاوٹ بن رہے تھے۔

مقامی ذرائع نے العربیہ کو بتایا ہے کہ عبوری کونسل کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان آج کسی وقت اپنے خطاب میں ملک میں ایمرجنسی کا اعلان کریں گے۔

یاد رہے کہ العربیہ اور الحدث چینلوں کی نامہ نگار کے مطابق آج صبح وزیر اعظم عبداللہ حمدوک کی حکومت کے متعدد وزراء کو گرفتار کر لیا گیا۔ ایک نامعلوم عسکری فورس نے چار وزرا کے علاوہ خودمختار کونسل کے شہری رکن محمد الفکی کو بھی حراست میں لے لیا۔گرفتار عہدے داروں میں کابینہ کے امور کے وزیر خالد عمر يوسف، وزیر اعظم عبداللہ حمدوک کے مشیر برائے ذرائع ابلاغ فیصل محمد صالح اور وزیر صنعت ابراہيم الشيخ کے علاوہ 3 سیاسی جماعتوں کے ذمے داران بھی شامل ہیں۔ یہ جماعتیں سوڈانی کانگریس پارٹی، البعث العربی پارٹی اور یونینسٹ ایسوسی ایشن ہیں۔

سکیورٹی فورسز نے دارالحکومت خرطوم کے ہوائی اڈے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ تمام بین الاقوامی پروازیں معطل کر دی گئی ہیں جب کہ ملک میں انٹرنیٹ اور ٹیلی مواصلات کی سروس بھی بند ہے۔