.

امریکی فوج بڑی تعداد میں خلیج عرب میں کیوں تعینات رہنا چاہتی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اگرامریکی ہم سینٹرل کمانڈ کے علاقے میں امریکی فوج کی تعیناتی کے نقشے کو دیکھیں اور اگست کے وسط میں اس نقشے کا اس کے ہم منصب سے موازنہ کریں تو ہمیں واضح طور پر خطے میں امریکی بحری جہازوں اور بحری بیڑوں کی تعداد میں زبردست کمی نظر آئے گی۔

ایرانی خطرے کا سامنا

العربیہ اور الحدث چینلوں کے ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکی افواج اپنے اڈوں پر واپس جائیں گی، کیونکہ بحرالکاہل کے علاقے میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کی بقا میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں۔ "چینی خطرہ" امریکیوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ مشرقی یورپ کے علاقوں میں روس کی مسلسل اشتعال انگیزیوں کے علاوہ امریکا چاہتا ہے کہ وہ اس امر کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے کہ وہ نیٹو کے اندر یورپیوں کے ساتھ کھڑا ہے تاکہ ان روسی خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔

اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہونا چاہیے کہ امریکا مشرق وسطیٰ سے نکل رہا ہے، بلکہ یہ کہ عسکری ذرائع نے العربیہ اور الحدث کو بتایا کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں ایران کے شراکت داروں اور اتحادیوں کو لاحق خطرات کو واضح طور پر دیکھ رہا ہے اور امریکا "ایرانی خطرے" کا مقابلہ کرنے کے لیے اس خطے میں اپنی فوجیں تعینات کرنا اور ان کی تعداد بڑھانا چاہتا ہے۔

عسکری سازو سامان

اس خطے میں امریکی افواج اور امریکی ساز و سامان کے مکمل شائع شدہ نقشے اور اعدادوشمار دستیاب نہیں ہیں تاہم پینٹاگان اور سینٹرل کمانڈ کے ذرائع بتاتے ہیں کہ امریکا نے علاقے سے طیارہ بردار بحری بیڑے "رونلڈ ریگن" کے نکلنے اور بحریہ کے’مینٹیری‘ گروپ کے انخلاء کے بعد امریکا اب بھی 60 سے 70 ہزار امریکی فوجیوں کو سینٹرل کمانڈ کے تحت علاقے میں رکھتا ہے، اور ان فوجیوں کی اکثریت ان پانیوں اور خشکی کے علاقوں پر تعینات ہے جہاں پر ایرانیوں کے ساتھ کسی بھی محاذ آرائی کا خطرہ موجود ہے۔

شاید صرف یہ تعداد امریکی فوجی موجودگی کی اہمیت پر زور دینے کے لیے کافی نہیں ہے۔درحقیقت امریکہ اس خطے میں "تھاڈ" اور "پیٹریاٹ" قسم کے ریڈار اور میزائل شکن نظاموں کے جدید ترین نظام رکھتا ہے۔ حال ہی میں پانچویں بحری بیڑے میں ایک نیا ورکنگ گروپ قائم کیا گیا ہے جو ایرانی ڈرون کا مقابلہ کرنے کے لیے وقف ہے۔

خطرات

ان دفاعی نظاموں کا مقصد بنیادی طور پر ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے خطرات کا مقابلہ کرنا اور ان کا مشن خلیج تعاون کونسل کے ممالک کو اپنے اہم علاقوں اور بندرگاہوں کی حفاظت میں مدد فراہم کرنا ہے۔

اس کے علاوہ امریکی فوجی دستے خلیج عرب میں تعینات اپنے فوجیوں کی حفاظت کے لیے جدید دفاعی نظام یقینی بنائیں گے۔ عراق، شام، اردن اور اسرائیل میں بھی، جہاں کم از کم 3 سے 4 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں اور انھیں حفاظتی نظام کی ضرورت ہےان کی دفاعی مدد کی جائے گی تاکہ وہ اپنا دفاع کریں اور ایران اور اس کی ملیشیاؤں کی طرف سے کسی بھی خطرے کا جواب دے سکیں۔ جو تہران سے بیروت اور یمن تک پھیلی ہوئی ہیں۔

امریکی ائیرکرافٹ کیرئیر
امریکی ائیرکرافٹ کیرئیر

اس خطے میں "طاقت کی سطح" کو کنٹرول کرنے والے بہت سے سیاسی اور عسکری تحفظات ہیں۔ العربیہ اور الحدث ذرائع کے مطابق موجودہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ اور امریکی فوج خطے میں فوج کی موجودگی کے بارے میں دو متضاد آرا راکھتے ہیں۔

سیاسی قیادت سے اختلاف

جو بائیڈن انتظامیہ اس بات پر زور دیتی ہے کہ وہ علاقائی شراکت داروں کو اپنے تحفظ میں مدد کے لیے دوگنا کوششیں کرنا چاہتی ہے اس بات کا اشارہ اسسٹنٹ سیکرٹری دفاع مارا کارلن نے ہفتہ قبل مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ ایک انٹرویو میں دیا تھا اور پینٹاگان کے دیگر سویلین حکام نے اس کی تصدیق کی۔

سیاسی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈیموکریٹک صدر کی انتظامیہ کو کنٹرول کرنے والی ذہنیت اس حقیقت پر مبنی ہے کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں ضرورت کے تحت اپنی فوج رکھنا چاہتاہے اور وہ اس خطے میں فوجی موجودگی کو کم کرنے کو ترجیح دیتی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ اس خطے کے ممالک امریکی فوج کے بجائے اپنی مدد اور اپنی فوجی صلاحیتوں پر زیادہ انحصار کریں۔

امریکی صدر جو بائیڈن
امریکی صدر جو بائیڈن

جہاں تک امریکی فوج کا تعلق ہے، وہ ایک مختلف موقف کا اظہار کرتی ہے۔ اور العربیہ اور الحدث کے ذرائع کے مطابق عسکری قیادت اور افسران عمومی طور پر خطے میں امریکی فوجی موجودگی کو برقرار رکھنے کا رجحان رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ خلیج عرب کے خطے، عراق اور شام میں امریکی فوج کی موجودگی ضروری ہے۔ وہ فضائی اور سمندری صلاحیتوں کو برقرار رکھنے کا رجحان رکھتے ہیں کیونکہ وہ اس موجودگی کو ایران کے عسکری عزائم کے خلاف "غیر معمولی اہمیت" دیتےہیں۔

امریکی فوج کا خیال ہے کہ خطے میں اس کی موجودگی اول تو ایران کو روکنے اور اس پر قابو پانے کے ضروری ہے۔ دوسرا اس لیے بھی خطے میں امریکی فوج کی موجودگی اہمیت رکھتی ہے کہ امریکی فوج نے خطے کی افواج کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے ہیں۔ اس کا خیال ہے کہ یہ تعلقات طویل مدت میں ثمر آور ثابت ہوں گے اور خطے میں امریکا اور اس کےاتحادیوں کو درپیش مشترکہ چیلنجز سےنمٹنے میں معاون ہوں گے۔